رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کو نہایت اہتمام کے ساتھ ادا فرمایا، آپ ﷺ کا انداز انتہائی سادہ، عاجزانہ اور اخلاص سے بھرپور ہوتا تھا، آپ اپنے ہاتھ سے قربانی کرتے، اللہ کا نام لیتے، دعا فرماتے اور اپنی امت کے ان افراد کو بھی ثواب میں شریک کرتے جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، آپ ﷺ نے اپنی قربانی کو فخر و نمائش کا ذریعہ نہیں بنایا، نہ مہنگے جانوروں کی نمائش فرمائی، نہ اپنی حیثیت جتائی اور نہ ہی لوگوں کے سامنے اپنی سخاوت کا چرچا کیا، یہی اسوہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی تھا، ان کے نزدیک اصل فکر یہ ہوتی تھی کہ اللہ ہماری قربانی قبول فرمائے،ان کے دلوں میں خوفِ خدا غالب رہتا تھا، نہ کہ دکھاوا اور شہرت کی خواہش و تمنا ، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج قربانی کی اس عظیم عبادت کو بھی نمود و نمائش کی آلودگی نے متاثر کر دیا ہے، معاشرے میں ایک عجیب مقابلہ بازی پیدا ہو گئی ہے، کہیں جانوروں کی قیمتیں فخر سے بیان کی جاتی ہیں، کہیں ان کے وزن اور نسل کے چرچے ہوتے ہیں اور کہیں سوشل میڈیا پر قربانی کو نمائش کا ذریعہ بنایا جاتا ہے، بھائی تجھے کتنے میں پڑا، میں تو 20 ہزار کا خریدا ہوں، تیرا جانور تو ایک لاکھ کا لگ رہا ہے، تیرے بکرے کی یہ نسل نہیں لگ رہی جو تو بتارہا ہے، ایسی باتیں اور چرچے گلی محلوں میں ہورہے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بعض لوگ قربانی اللہ کے لیے کم اور لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے زیادہ کر رہے ہوں،مہنگے جانور خریدنا بذاتِ خود کوئی برائی نہیں، لیکن اگر نیت میں تفاخر شامل ہو جائے تو عبادت کی روح متاثر ہو جاتی ہے، ریاکاری عبادت کا سب سے خطرناک دشمن ہے، ایک انسان لاکھوں روپے خرچ کر دے، بہترین جانور خرید لے، لیکن اگر اس کے دل میں لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش ہو تو وہ اپنی محنت کا اجر ضائع کر سکتا ہے، قربانی کا اصل مقصد اپنے نفس کو جھکانا اور اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرنا ہے، نہ کہ اپنی دولت اور حیثیت کا اظہار کرنا، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کا محاسبہ کریں اور سوچیں کہ ہماری قربانی واقعی اللہ کے لیے ہے یا معاشرتی تفاخر اور دکھاوے کے لیے، اسلام نے قربانی کے ذریعے معاشرے میں ایثار، محبت اور اخوت کو بھی فروغ دیا ہے، قربانی کا گوشت غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں تک پہنچانا اس عبادت کا اہم حصہ ہے، افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ بہترین گوشت اپنے لیے محفوظ کر لیتے ہیں اور ضرورت مندوں کو کم تر حصہ دیتے ہیں، یہ طرزِ عمل قربانی کے مقصد کے خلاف ہے، اسلام کا پیغام ہے کہ اللہ کی راہ میں بہترین چیز پیش کرو اور اپنے غریب بھائیوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرو، حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی (یا پڑوسی) کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے‘ ‘، یہی وہ جذبہ ہے جو ایک اسلامی معاشرے کو رحمت اور محبت کا گہوارہ بناسکتاہے۔
قربانی انسان کے اندر مال کی محبت کو بھی کم کرتی ہے، انسان جب اپنا سرمایہ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے تو اس کے دل میں دنیا کی محبت کم اور آخرت کی فکر زیادہ پیدا ہوتی ہے، اسی لیے قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، اپنے تکبر، اپنی انا اور اپنے نفس کی قربانی دینے کا درس بھی دیتی ہے،اگر انسان نے جانور تو ذبح کر دیا مگر اس کے اندر حسد، بغض، غرور اور خود نمائی باقی رہی تو اس نے قربانی کے اصل سبق کو نہیں سمجھا، آج امتِ مسلمہ کو اس عبادت کی حقیقی روح کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے،ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ قربانی صرف گوشت حاصل کرنے یا تہوار منانے کا نام نہیں بلکہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے، ہمیں اپنے گھروں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت و وفا کے واقعات کو زندہ کرنا ہوگا، جب تک قربانی کے ساتھ اخلاص، تقویٰ اورعاجزی شامل نہیں ہوگی، اس وقت تک اس عبادت کے حقیقی اثرات ہماری زندگیوں میں ظاہر نہیں ہوں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کو دوبارہ اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کریں،سادگی، اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے قربانی کریں، غریبوں اور محتاجوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں، اور اس عظیم الشان عبادت کو نام ونمود فخرو نمائش سے پاک رکھیں، اگر ہماری قربانیوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کا رنگ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی جھلک پیدا ہو گئی تو یقیناً یہ عبادت ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن جائے گی۔
(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہورمذہبی اسکالر، معلم حجاج، شریعہ ایڈوائزر، مصنف، کالم نگار ، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)




