گاندھی نگر: گجرات ریاستی وقف بورڈ نے ایک اہم انتظامی حکمنامہ جاری کرتے ہوئے ریاست بھر کے تمام متولیوں، ٹرسٹیوں، وقف اداروں اور متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 26 مئی تک ’امید‘ پورٹل پر اپنی لازمی رجسٹریشن کا عمل ہر صورت مکمل کریں۔ وقف بورڈ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ قانونی ضابطوں اور اعلیٰ سطحی ہدایات کے تحت اس معلوماتی مہم کے بعد اب رجسٹریشن کے لیے مزید کوئی مہلت نہیں دی جائے گی۔ مقررہ وقت کے اندر ڈیجیٹل رجسٹریشن نہ کرنے والے اداروں اور متولیوں کو قانونی و انتظامی سطح پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ریاستی وقف بورڈ کو موصول ہونے والی شکایات اور رجسٹریشن کے دوران پیش آنے والی تکنیکی اور طریقہ کار سے متعلق دشواریوں کے فوری حل کے لیے بورڈ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک خصوصی ہیلپ لائن بھی فعال کر دی گئی ہے۔ اس ہیلپ لائن کا مقصد دور دراز علاقوں میں موجود وقف اداروں، مساجد، مدارس اور دیگر خیراتی اداروں کے منتظمین کو تکنیکی مدد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے دستاویزی ریکارڈ کو اپ لوڈ کر سکیں۔ بورڈ کے مطابق، ریاست میں اب بھی بڑی تعداد میں ایسے وقف ادارے موجود ہیں جنہوں نے بار بار دی جانے والی ہدایات کے باوجود اب تک اپنا رجسٹریشن مکمل نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے یہ سخت گیر موقف اختیار کرنا پڑا۔
یہ جامع مہم مرکزی وزارتِ اقلیتی امور کے اس قومی منصوبے کا ایک حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں پھیلی ہوئی کروڑوں روپے مالیت کی وقف املاک کے ریکارڈ کو ایک مرکزی نظام کے تحت جمع کرنا اور انہیں مکمل طور پر ڈیجیٹل شکل دینا ہے۔ اسی قومی مقصد کے تحت ’امید‘ پورٹل کو گزشتہ برس 6 جون کو باقاعدہ طور پر شروع کیا گیا تھا۔ اس پورٹل پر وقف جائیدادوں سے متعلق تمام اہم تفصیلات بشمول جائیداد کی ملکیت، سالانہ آمدنی، تاریخی و قانونی دستاویزات اور انتظامی کمیٹیوں کے ریکارڈ کو قومی سطح پر ایک محفوظ پلیٹ فارم پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ اوقافی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹلائزیشن کا براہ راست اثر وقف املاک کے تحفظ پر پڑے گا۔ ماضی میں کاغذی ریکارڈ کی عدم دستیابی، نامکمل دستاویزات یا مقامی سطح پر بکھرے ہوئے نظام کی وجہ سے اوقافی اراضی پر ناجائز قبضوں اور باہمی تنازعات کی شکایات عام تھیں۔ ’امید‘ پلیٹ فارم وقف املاک کی جانچ، جغرافیائی نشان دہی (Geo-tagging)، سیٹلائٹ نگرانی اور ڈیجیٹل انتظام کے لیے ایک مربوط نیٹ ورک کے طور پر کام کرتا ہے۔ وزارت نے اس نظام میں سروے اور لیز مینجمنٹ جیسے جدید ٹولز بھی شامل کیے ہیں، جس سے املاک کے تجارتی استعمال اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کی نگرانی براہ راست مرکزی اور ریاستی سطح پر ممکن ہو سکے گی۔
گجرات ریاستی وقف بورڈ نے اپنے بیان میں زور دیا ہے کہ یہ پورٹل محض ایک رسمی رجسٹریشن کی سہولت نہیں ہے، بلکہ یہ مسلم کمیونٹی کے مذہبی اور فلاحی اثاثوں کے طویل مدتی تحفظ اور اوقافی انتظامیہ میں شفافیت لانے کی جانب ایک بنیادی اصلاح ہے۔ بورڈ نے تمام متولیوں اور ٹرسٹیوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر تمام ضروری اور تصدیق شدہ دستاویزات جلد از جلد پورٹل پر اپ لوڈ کریں اور نامکمل درخواستیں جمع کرنے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی یا جائیداد کے ریکارڈ کے معطل ہونے کے خطرے سے بچا جا سکے۔




