دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے الزامات کے تحت طویل عرصے سے جیل میں بند مسلم رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنان عمر خالد، شرجیل امام اور خالد سیفی کی ضمانت کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کے حالیہ موقف نے دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے دہشت گردی مخالف سخت قانون ‘یو اے پی اے’ (UAPA) کے تحت درج مقدمات میں بھی طویل قید اور ٹرائل میں تاخیر کو ضمانت کا ٹھوس جواز تسلیم کیے جانے کے بعد، دہلی پولیس اب اپنی ممکنہ فضیحت سے بچنے کے لیے معاملے کو ایک بڑی اور وسیع تر آئینی بنچ کے سامنے لے جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس قانونی حکمت عملی کا اشارہ منگل کے روز خالد سیفی اور تسلیم احمد کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران سرکاری وکیل کی جانب سے دیا گیا۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق، پیر کے روز سپریم کورٹ کے جسٹس اجل بھوئیاں اور جسٹس ناگرتنا پر مشتمل بنچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کے تعلق سے ایک انتہائی اہم اور لبرل موقف اختیار کیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کے تحت درج مقدمات میں بھی اگر سماعت میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہو، تو طویل قید و بند کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا اور یہاں بھی عدلیہ کا بنیادی اصول یعنی "ضمانت معمول ہے اور جیل استثنیٰ” (Bail is the rule, jail is the exception) لاگو ہوگا۔ سپریم کورٹ کے اس جرات مندانہ اور انسانی حقوق کے حق میں دیے گئے ریمارکس سے دہلی پولیس کے مقدمے کو بڑا جھٹکا لگا ہے، کیونکہ استغاثہ برسوں گزر جانے کے باوجود اب تک ان ملزمان کے خلاف ٹھوس ٹرائل شروع کرنے میں ناکام رہا ہے۔
منگل کو جب خالد سیفی اور تسلیم احمد کی ضمانت کی درخواستیں سماعت کے لیے آئیں، تو حکومت کے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (ASG) ایس وی راجو نے پیر کے روز عدالت کی جانب سے اختیار کیے گئے موقف پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف برقرار رکھنے کی کوشش کی کہ ان فیصلوں میں "قانون کی درست تشریح نہیں” کی گئی ہے۔ سرکاری وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ کیا یو اے پی اے کے تحت ضمانت پر عائد سخت قانونی رکاوٹوں کو محض مقدمے کی تاخیر یا طویل نظر بندی کی بنیاد پر نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس نازک قانونی نکتے پر سپریم کورٹ کی دو ہم مرتبہ بنچوں کے فیصلوں میں تضاد پایا جاتا ہے، اس لیے اس وسیع اور حساس آئینی سوال کو حل کرنے کے لیے ایک بڑی آئینی بنچ کی رائے حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
قانونی پس منظر پر نظر ڈالیں تو یو اے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5) کے تحت کسی بھی ملزم کو ضمانت ملنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ قانون کے مطابق اگر عدالت کو پہلی نظر میں (Prima Facie) الزامات سچے لگیں تو ضمانت مسترد کر دی جاتی ہے۔ دہلی پولیس اسی دفعہ کا سہارا لے کر عمر خالد، خالد سیفی اور دیگر مسلم نوجوانوں کو گزشتہ چھ سالوں سے بغیر کسی جرم کے ثابت ہوئے سلاخوں کے پیچھے رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں سپریم کورٹ نے متعدد کیسز میں یہ ریمارکس دیے ہیں کہ بنیادی انسانی حقوق اور آرٹیکل 21 کے تحت حاصل جینے اور آزادی کے حق کو کسی بھی سخت قانون کے ذریعے مستقل طور پر سلب نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب ریاستی ایجنسیاں ٹرائل مکمل کرنے میں ناکام رہیں۔
قانونی ماہرین اور سماجی حلقوں کا ماننا ہے کہ دہلی پولیس کی جانب سے وسیع تر بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ دراصل ملزمان کی جیل سے رہائی کے عمل کو مزید طول دینے اور عدالت میں اپنی ناکامی کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔ کٹر پسند قوانین کے بے جا استعمال کے خلاف سپریم کورٹ کا یہ بدلا ہوا رخ ملکی معیشت اور عدالتی وقار کے لیے مثبت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن انتظامیہ اس لبرل تشریح کو قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔ اگرچہ سرکاری وکیل نے خالد سیفی کو عبوری ضمانت دینے کی براہ راست مخالفت نہیں کی، لیکن انہوں نے اس پورے قانونی ڈھانچے پر بڑی بنچ کے ذریعے دوبارہ غور کرنے پر زور دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں ایک نئی آئینی بحث چھڑنے کا امکان ہے۔




