روپئے کی گرتی قدر کے بعد کونسا بڑا قدم اٹھانے جارہی ہے مودی سرکار؟

بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے نے مرکزی حکومت کو سخت اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ڈالر کے مقابلے روپیہ اب تک کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد حکومت نے ملک کے کثیر درآمدی بل کو کنٹرول کرنے کے لیے غیر ضروری اور کم معیار کی غیر ملکی اشیاء کی درآمد پر شکنجہ کسنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس نئے منصوبے کے تحت ایسی تمام مصنوعات کے داخلے پر مکمل پابندی یا اضافی کسٹم ڈیوٹی عائد کی جائے گی جن کی ہندوستان کو خاص ضرورت نہیں ہے یا جنہیں مقامی سطح پر آسانی سے تیار کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے تمام وزارتوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ اپنے متعلقہ شعبوں سے ایسی مصنوعات کی فہرست تیار کریں جن پر فوری پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

حالیہ اقتصادی اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپیہ 96.5 کی ریکارڈ کم ترین سطح پر بند ہوا، جو اس سے قبل 96.34 پر تھا۔ روپے کی اس ریکارڈ کمزوری کا براہ راست اثر ملک کے تجارتی خسارے پر پڑا ہے۔ اپریل کے مہینے میں ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 28.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو مارچ میں 20.7 ارب ڈالر تھا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں سست روی اور ملک سے باہر جا رہے سرمائے نے ادائیگیوں کے توازن (بیلینس آف پیمنٹس) کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بیرون ملک رقوم کی منتقلی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ملکی معیشت پر شدید دباؤ بڑھے گا، جس کا براہ راست اثر عام آدمی پر مہنگائی کی صورت میں پڑے گا۔

معیشت کو اس بحران سے نکالنے کے لیے اگلے ہفتے ایک اعلیٰ سطحی بین وزارتی میٹنگ طلب کی گئی ہے، جس میں وزارت خزانہ، وزارت کامرس اور دیگر بنیادی ڈھانچے سے متعلق وزارتوں کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ اس اہم ترین اجلاس میں مغربی ایشیا کے موجودہ جیو پولیٹیکل بحران کے پس منظر میں درآمدی بل کو کم کرنے اور ملکی محصولات کو بڑھانے کے فوری متبادل اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسی کئی اشیاء بڑے پیمانے پر درآمد کی جا رہی ہیں جن کی گھریلو پیداوار ممکن ہے۔ ان غیر ضروری اشیاء کی وجہ سے روپے پر بلاوجہ بوجھ پڑ رہا ہے، اس لیے حکومت کسٹم ڈیوٹی میں اضافے یا براہ راست پابندی جیسے اقدامات کا سہارا لے گی۔

یہ فیصلہ حکومت کی طویل مدتی اقتصادی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد مقامی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حال ہی میں وزیر کامرس پیوش گوئل نے درآمد کنندگان کو واضح پیغام دیا تھا کہ وہ ایسی مصنوعات بیرون ملک سے منگوانے سے گریز کریں جو مقامی بازار میں دستیاب ہیں۔ انہوں نے تاجروں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ "میک ان انڈیا” کے تحت ملک کے اندر ہی پیداواری امکانات تلاش کریں۔ اس سے قبل حکومت نے سونے کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو لگام دینے کے لیے کسٹم ڈیوٹی میں نمایاں اضافہ کیا تھا اور چاندی کی آزادانہ درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے سرکاری لائسنس لازمی قرار دیا تھا۔

حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام پابندیاں یکلخت نافذ نہیں کی جائیں گی بلکہ ایک منظم اور مقررہ وقت کے اندر مرحلہ وار طریقے سے عائد ہوں گی۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ ملکی صنعتوں کے لیے ضروری خام مال یا اہم سپلائی چین پر اس کا کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ اس جامع حکمت عملی کا حتمی مقصد درآمدات کو محدود کر کے روپے کو مضبوط کرنا ہے، جس سے نہ صرف ملک کے اندر مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نئی زندگی ملے گی بلکہ روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

شیئر کریں۔