بھٹکل (فکروخبر نیوز) ساحلی کرناٹک کے معروف شہر بھٹکل اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ہفتہ اور اتوار کی شام تیز ہواؤں کے ساتھ ہونے والی موسلادھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ طوفانی ہواؤں کی وجہ سے تعلقہ بھر میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور کئی مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
عوام نے الزام لگایا کہ ہیپسکام (HESCOM) کے اہلکاروں نے اتوار کی تعطیل کا عذر پیش کرتے ہوئے پیر کے روز ہی مکمل مرمتی کام شروع کرنے کی بات کہی، جس پر شہریوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمہ کی تیاریوں پر سوالات اٹھائے۔ دوسری جانب ہیپسکام کے اسسٹنٹ انجینئر منجوناتھ نے بتایا کہ ہفتہ کی شام آنے والے طوفان کے سبب بھٹکل تعلقہ بشمول شیرا لی اور مرڈیشور میں مجموعی طور پر 26 بجلی کے کھمبے گر گئے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نئے کھمبے لگانے اور تاروں کو درست کرنے کا کام جاری ہے اور پیر تک تمام متاثرہ علاقوں میں بجلی بحال کر دی جائے گی۔
اس دوران شیرالی کے کوٹے باگیلو ہاسپیٹل روڈ پر ایک بڑا حادثہ اس وقت بال بال ٹل گیا جب ایک چلتی اسکوٹر پر بجلی کا کھمبا گر گیا۔ اس حادثے میں موڈ شیرالی کے رہائشی 35 سالہ وینکٹ رمن مستی نائک شدید زخمی ہو کر موقع پر ہی بے ہوش ہو گئے۔ مقامی لوگوں نے فوری مستعدی دکھاتے ہوئے انہیں بھٹکل سرکاری اسپتال منتقل کیا، جہاں سے بعد میں انہیں منیپال اسپتال ریفر کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ علاج کے بعد گھر لوٹ آئے ہیں۔ آدھے گھنٹے کی اس طوفانی بارش سے منڈلی، ہبلے، تالگوڈ اور کیکنی سمیت متعدد دیہاتوں میں ناریل اور دیگر درخت مکانات اور مویشیوں کے شیڈ پر گرنے سے املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ اطلاع ملتے ہی محکمہ مالگذاری (ریونیو) کے اہلکاروں نے متاثرہ مقامات کا دورہ کر کے نقصانات کا جائزہ لینے اور امدادی کارروائیوں کا عمل شروع کر دیا ہے۔




