ہاسن (فکروخبرنیوز) منگلورو سے بنگلورو جا رہی ایک نجی سلیپر بس میں اچانک خوفناک آگ لگنے سے ہائی وے پر سنسنی پھیل گئی۔ اس حادثے میں بس میں سوار تمام 36 مسافر معجزاتی طور پر بال بال بچ گئے، تاہم مسافروں کا قیمتی سامان، موبائل فون اور دیگر دستاویزات جل کر خاکستر ہو گئے۔ یہ حادثہ جمعہ کی دیر رات ہاسن ضلع کے شانتی گرام کے قریب نیشنل ہائی وے پر پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق بس کا ٹائر اچانک پھٹ گیا جس کے بعد گاڑی میں تیزی سے شعلے بلند ہونے لگے۔ بس میں سوار ایک بیدار مسافر نے کھڑکی کا پردہ ہٹا کر دیکھا تو ٹائر کے پاس آگ لگی ہوئی تھی، جس پر اس نے فوری طور پر ڈرائیور اور دیگر مسافروں کو الرٹ کیا۔ ڈرائیور نے بھی فوری مستعدی دکھاتے ہوئے بس کو سڑک کے کنارے روک دیا۔ اس دوران بس میں سوار بیشتر مسافر گہری نیند میں تھے، جو افراتفری کے عالم میں فوراً بس سے باہر نکلے اور اپنی جانیں بچائیں۔ عینی شاہدین کے مطابق مسافروں اور ڈرائیور کی بروقت ہوشیاری سے ایک بڑا اور المناک حادثہ ٹل گیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ہاسن اور شانتی گرام سے محکمہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی سروسز کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ فائر فائٹرز نے تقریباً ایک گھنٹے کی سخت مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا، لیکن تب تک بس مکمل طور پر جل کر خاکسترہوگئی۔ آدھی رات کو ہائی وے پر پھنسے مسافروں کی مدد کے لیے ہاسن پولیس اور ٹرانسپورٹ حکام نے فوری کارروائی کی اور انہیں بنگلورو روانہ کرنے کے لیے ایک متبادل بس کا انتظام کیا۔ شانتی گرام پولیس نے اس سلسلے میں معاملہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔




