بھٹکل: رحمت آباد میں بجلی کے کھمبے اکھڑنے سے 200 گھروں کی سپلائی معطل، عوامی احتجاج کے بعد ہیسکام حرکت میں

بھٹکل کے رحمت آباد اور فردوس نگر میں طوفانی بارش سے بجلی کے کھمبے گر گئے۔ ہیسکام کا عملہ موقع پر پہنچ کر مرمتی کام میں مصروف، بجلی اب تک بحال نہ ہو سکی۔

بھٹکل (فکروخبر نیوز)  بھٹکل اور اس کے مضافاتی علاقوں میں سنیچر کی شام ہونے والی شدید طوفانی بارش اور تیز ہواؤں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ ہیبلے پنچایت حدود میں آنے والے مسلم اکثریتی علاقوں رحمت آباد، فردوس نگر، منیٰ روڈ اور حنیف آباد میں تیز رفتار ہواؤں کی وجہ سے بجلی کے متعدد کھمبے اور درخت جڑ سے اکھڑ کر گر گئے۔ اس حادثے کے نتیجے میں ۲۰۰ سے زائد مکانات کا بجلی سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور مقامی باشندے گزشتہ 24 گھنٹوں سے گھور اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بجلی کی طویل معطلی کی وجہ سے شدید گرمی اور حبس کے موسم میں مقامی عوام نے بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ‘ہیسکام’ (HESCOM) کے خلاف شدید احتجاج درج کرایا تھا۔
جب بجلی دوپہر تک بھی بحال نہیں ہوئی تو موقع پر علاقہ کے لوگ جمع ہوگیے اور ہیسکام کے خلاف اپنے شدید غصہ کا اظہار کیا۔ اس کے کچھ ہی منٹوں بعد یہ لوگ ہیسکام دفتر پہنچے جہاں انہوں نے افسران سے ملاقات کرکے جلد بجلی کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ عوام کا غصہ اس وقت مزید شدت اختیار کرگیا جب افسران کی جانب  سے فی الفور بجلی بحال کرنے کے سلسلہ میں مثبت جواب نہیں ملا۔ انہوں نے ایک علاقہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں پر کام کرنے کے لیے ہیسکام کے پاس عملہ موجود ہے اور رحمت آباد میں کام کرنے کے لیے عملہ نہیں ہے۔

ہیبلے پنچایت کے ممبر جناب سید علی نے تازہ صورتحال کے بارے میں یہ جانکاری دی کہ عوامی غم و غصے اور شکایتوں کے بعد ہیسکام کا عملہ اور تکنیکی ٹیم ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ مقامات پر پہنچ چکی ہے۔ عملے نے اکھڑے ہوئے کھمبوں کو ہٹانے اور تاروں کو درست کرنے کا مرمتی کام شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ کی اس کارروائی کے باوجود علاقے میں بجلی کی سپلائی اب تک بحال نہیں ہو سکی ہے اور بحالی کے کاموں میں مزید کچھ وقت لگنے کا امکان ہے۔ مقامی سماجی کارکنان صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے ہیسکام حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی شدید قلت اور عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد بجلی سپلائی کو بحال کیا جائے۔

شیئر کریں۔