الیکشن کمیشن کا کرناٹک سمیت ۱۶ ریاستوں میں ایس آئی آر کا اعلان

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ملک کے انتخابی نظام کو مزید شفاف اور غلطیوں سے پاک بنانے کے لیے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے تیسرے مرحلے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اہم مہم کا آغاز 20 مئی سے ہونے جا رہا ہے جس کے تحت کرناٹک، مہاراشٹر، پنجاب، دہلی اور تلنگانہ سمیت 16 ریاستوں اور 3 مرکز زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں کی گھر گھر جا کر جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ووٹر لسٹوں میں موجود غلطیوں کو دور کرنا اور غیر اہل افراد کے ناموں کا اخراج یقینی بنانا ہے۔

کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس تیسرے مرحلے میں مجموعی طور پر تقریباً 36.73 کروڑ ووٹروں کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس وسیع تر مہم کو سرانجام دینے کے لیے الیکشن کمیشن نے 3.94 لاکھ سے زیادہ بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کو تعینات کیا ہے جو براہ راست شہریوں کے گھروں تک پہنچیں گے۔ انتخابی عمل میں سیاسی جماعتوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے 3.42 لاکھ بوتھ لیول ایجنٹس بھی اس پوری کارروائی میں تعاون اور نگرانی کے لیے موجود رہیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پہلے دو مرحلوں میں 13 ریاستوں کے 59 کروڑ ووٹروں کی تصدیق کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اس مرحلے میں جغرافیائی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ علاقوں کو فی الحال مستثنیٰ رکھا ہے۔ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ میں یہ مہم ابھی شروع نہیں کی جائے گی کیونکہ وہاں برفباری، دشوار گزار راستوں اور جاری مردم شماری کے دوسرے مرحلے کی وجہ سے حالات سازگار نہیں ہیں۔ ان علاقوں کے لیے الیکشن کمیشن مستقبل میں علیحدہ شیڈول جاری کرے گا تاکہ وہاں کا ہر شہری آسانی سے اس عمل کا حصہ بن سکے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اس مہم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری نمائندوں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط جمہوریت کے لیے درست ووٹر لسٹ کا ہونا بنیادی شرط ہے، لہٰذا شہری اپنے انومیریشن فارم جمع کرائیں تاکہ کوئی بھی مستحق ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہے۔ سیاسی مبصرین اس اقدام کو مستقبل کے انتخابات سے قبل ایک بڑی انتظامی تیاری قرار دے رہے ہیں جس سے بوگس ووٹنگ کے امکانات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

ووٹر لسٹوں کی اس نظرثانی سے نہ صرف نئے ووٹرز کو اپنا نام درج کرانے کا موقع ملے گا بلکہ ان افراد کو بھی سہولت ہوگی جن کے پتے تبدیل ہو چکے ہیں یا جن کے شناختی کارڈز میں فنی غلطیاں موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر شفاف اور اشتراکی عمل ہے جس میں عوام کی شرکت ہی اس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

شیئر کریں۔