بنگلورو: (فکروخبرنیوز) کرناٹک حکومت نے ریاست کے چاروں روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں (RTCs) کے لاکھوں ملازمین کے لیے 12.5 فیصد تنخواہ میں اضافے کا ایک اہم اعلان کیا ہے۔ منگل کے روز جاری کردہ سرکاری حکم نامے کے مطابق یہ اضافہ ملازمین کی 31 مارچ 2025 تک کی بنیادی تنخواہ پر لاگو ہوگا اور بڑھی ہوئی رقم یکم جولائی 2026 سے ملنے والی تنخواہوں میں شامل کی جائے گی۔ تاہم حکومت کی اس پیشکش کو ٹرانسپورٹ ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرانسپورٹ ملازمین گزشتہ طویل عرصے سے اپنی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے اور واجب الادا بقایا جات (Arrears) کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 12.5 فیصد کا اضافہ مہنگائی کے تناسب سے بہت کم ہے اور یہ ان کی توقعات کے برعکس ہے۔ ملازم تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ اپنا احتجاج واپس نہیں لیں گے۔
ملازمین کی ناراضگی کے باعث ریاست میں ٹرانسپورٹ خدمات بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق 20 مئی سے ریاست گیر غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کریں گے۔ اس ہڑتال میں کے ایس آر ٹی سی (KSRTC)، بی ایم ٹی سی (BMTC)، این ڈبلیو کے آر ٹی سی (NWKRTC) اور کے کے آر ٹی سی (KKRTC) کے ایک لاکھ سے زائد ملازمین شرکت کریں گے، جس سے عام مسافروں اور بالخصوص اسکول و کالج کے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔




