تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی نے باغبانی کی فصلوں اور مکانات کو پہنچایا شدید نقصان

ساحلی ضلع اڈپی کے کرکلہ تعلقہ میں گزشتہ دو دنوں سے جاری طوفانی بارش اور بجلی گرنے کے واقعات میں باغبانی کی فصلوں کو 5 لاکھ سے زائد کا نقصان، 20 سے زائد مکانات جزوی طور پر متاثر۔

کارکلا(فکروخبرنیوز) ساحلی ضلع اڈپی کے کارکلا تعلقہ میں گزشتہ دو روز سے جاری پری مونسون کی طوفانی بارش، تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ ان قدرتی آفات کی وجہ سے باغبانی کی فصلوں اور رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے مقامی کسانوں اور مکینوں کو لاکھوں روپے کا خسارہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے، جہاں اب تک فصلوں کی تباہی کے 10 سے زائد بڑے معاملات سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق باغبانی کی فصلوں کو پہنچنے والا نقصان 5 لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ‘بولا’ گاؤں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں ایک کسان کی پوری نرسری اور باغات اجڑ گئے، جس سے اسے ایک لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ اسی طرح بولا اور مودرادی کے دیگر کسانوں کے باغات میں درختوں اور بیلوں کے اکھڑ جانے سے ہزاروں روپے کی املاک خاک میں مل گئی ہیں۔

بارش کے ساتھ ساتھ آسمانی بجلی کا قہر بھی دیکھنے کو ملا۔ جمعہ اور ہفتہ کو کالیہ اور ککنڈور دیہات میں بجلی گرنے سے دو مکانات کو شدید نقصان پہنچا، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، نندلیکے، منڈکور، بیلمن اور بولا جیسے علاقوں میں تیز ہواؤں کی وجہ سے 20 سے زائد مکانات کی چھتیں اڑ گئیں اور دیواریں منہدم ہوگئیں۔ صرف بولا گاؤں میں مکانات کی تباہی سے 2 لاکھ روپے سے زائد کے مالی نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق، اگرچہ ان چند دنوں میں تباہی زیادہ ہوئی ہے، لیکن ضلع اڈپی میں مجموعی طور پر پری مونسون بارش اب بھی معمول سے کم ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرکلا میں سب سے زیادہ 8.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ کاپ، برہماور اور اڈپی میں ہلکی بوندا باندی ہوئی۔

شیئر کریں۔