آپ میرے ساتھ جڑ جائیے۔۔۔۔۔۔ مودی-ریونت ریڈی ملاقات نے بڑھائی سیاسی ہلچل، اسٹیج پر تعریف بھی، طنز بھی

حیدرآباد میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد کی تقریب کے دوران تلنگانہ کی سیاست میں ایک نیا اور دلچسپ رخ دیکھنے کو ملا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے نہ صرف ایک ہی اسٹیج شیئر کیا بلکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی تلخیوں کے بجائے تعمیری گفتگو اور گرم جوشی نظر آئی۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اپنے خطاب میں روایتی سیاسی دشمنی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو ‘بڑا بھائی’ قرار دیا اور ریاست کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت سے بھرپور تعاون کی درخواست کی۔

ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ اب انتخابات کا وقت ختم ہو چکا ہے اور مرکز و ریاست دونوں کو مل کر عوامی مفاد اور گورننس پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح اس وقت گجرات کو بطور ریاست مرکز سے بھرپور مدد ملی تھی، ویسے ہی تعاون کی توقع اب تلنگانہ کو بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ‘وکست بھارت’ کا خواب تب ہی شرمندہ تعبیر ہوگا جب تلنگانہ جیسی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ریاستوں کو مرکز کی مکمل سرپرستی حاصل ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے خاص طور پر مچھلی پٹنم بندرگاہ تک ریلوے کنیکٹیویٹی اور حیدرآباد میٹرو ریل کے زیر التوا منصوبوں کی منظوری پر زور دیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعلیٰ کی اپیل کا مثبت جواب دیا لیکن ساتھ ہی اعداد و شمار کے ذریعے سیاسی جوابی حملہ بھی کیا۔ مودی نے کہا کہ تلنگانہ کو اس وقت مرکز کی جانب سے جو فنڈز مل رہے ہیں، وہ منموہن سنگھ کے دور میں گجرات کو ملنے والے فنڈز سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ متحدہ آندھرا پردیش کے دور میں ریلوے کے لیے مختص رقم محض ایک ہزار کروڑ روپے کے لگ بھگ ہوتی تھی، جبکہ آج تلنگانہ میں انفراسٹرکچر پر کئی گنا زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ تاہم وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ مرکز ترقیاتی کاموں کو سیاسی چشمے سے نہیں دیکھتا اور ریاست کی صنعتی و معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رہے گا۔

یہ تقریب سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کے دور سے بالکل مختلف تھی۔ کے سی آر اکثر وزیر اعظم کے دوروں سے دوری اختیار کرتے تھے، لیکن ریونت ریڈی نے سرکاری پروٹوکول اور سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام سرکاری تقاریب میں شرکت کی۔ اسٹیج پر دونوں رہنماؤں کو خوشگوار موڈ میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ریونت ریڈی کا یہ رویہ ریاست کے مفادات کے تحفظ اور وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ایک شعوری کوشش ہے، جو مستقبل میں تلنگانہ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں۔