مغربی بنگال: مدنی پور میں شدید تشدد، کھجوری اور ہجلی شریف میں ہندو مسلم تاجروں کی 60 سے زائد دکانیں نذر آتش

مغربی بنگال کے ضلع پوربا مدنی پور میں انتخابی نتائج کے بعد شروع ہونے والا تشدد تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں کھجوری کی نیچ کسبہ گرام پنچایت اور ہجلی شریف کے علاقوں میں شرپسندوں نے بڑے پیمانے پر آتش زنی کی، جس میں ہندو اور مسلم دونوں برادریوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں کی 60 سے 80 کے قریب دکانیں جل کر راکھ ہو گئیں۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور سینکڑوں خاندانوں کی روزی روٹی پل بھر میں چھین لی ہے۔

ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے "بربریت” قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ بی جے پی کے حامی شرپسندوں نے دانستہ طور پر ان دکانوں کو نشانہ بنایا تاکہ ریاست کے جمہوری تانے بانے اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ بنرجی کا کہنا تھا کہ آگ لگانے والوں نے یہ نہیں دیکھا کہ دکان کسی ہندو کی ہے یا مسلمان کی، بلکہ ان کا مقصد صرف تباہی پھیلانا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اسی طرح بنگال سے "خوف” نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے؟

دوسری جانب، ٹی ایم سی لیڈر مہوا موئترا نے بھی بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بنگال مسلسل جل رہا ہے اور بی جے پی کے غنڈوں نے کھجوری میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی 60 دکانیں نذر آتش کر دی ہیں۔ موئترا نے مرکزی سیکورٹی فورسز کی موجودگی پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ جب ریاست میں مرکزی فورسز کی 700 کمپنیاں موجود ہیں، تو پھر اس طرح کی غنڈہ گردی کیسے ہو رہی ہے؟

مقامی پولیس کے مطابق، ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پیش آنے والے اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور سیکورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی، لیکن تب تک بڑی تعداد میں دکانیں خاکستر ہو چکی تھیں۔ اگرچہ سیاسی حلقوں میں اسے انتخابی رنجش اور منظم حملہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن بعض ابتدائی قیاس آرائیاں شارٹ سرکٹ کے حوالے سے بھی کی گئی تھیں، جنہیں متاثرہ تاجروں اور سیاسی رہنماؤں نے مسترد کر دیا ہے۔

پوربا مدنی پور کا یہ علاقہ سیاسی طور پر انتہائی حساس مانا جاتا ہے اور حالیہ انتخابات کے بعد یہاں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ انتظامیہ نے علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی ہے تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے شرپسندوں کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ متاثرہ دکانداروں نے حکومت سے معاوضے اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں۔