ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خطے کی تازہ ترین صورتحال اور اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک بڑا بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اب ایک نئی مساوات مرتب ہو رہی ہے، جو آنے والے دنوں میں خطے کے سیاسی اور دفاعی منظر نامے کو تبدیل کر سکتی ہے۔ قالیباف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس اہم آبی گزرگاہ میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں ایرانی اسپیکر نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے حواریوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کر کے اور ناکہ بندی مسلط کر کے بحری جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کی حفاظت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ قالیباف نے خبردار کیا کہ امریکہ کے لیے موجودہ صورتحال کو مزید طول دینا ناقابل برداشت ہو جائے گا اور ان کی ان معاندانہ کارروائیوں کا نقصان اب کم ہونا شروع ہو جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی کارروائیوں کے بعد تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی پائیدار نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع تو کی، لیکن 13 اپریل سے امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری ٹریفک کے خلاف بحری ناکہ بندی شروع کر رکھی ہے۔
محمد باقر قالیباف کے مطابق ایران اب دفاعی اور سفارتی محاذ پر نئی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ عالمی برادری اب واشنگٹن کی جانب سے توانائی کے راستوں کو یرغمال بنانے کی پالیسی کو مزید قبول نہیں کرے گی۔ ایران کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطے میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، جبکہ امریکہ کی معاشی اور بحری ناکہ بندی نے خطے میں تصادم کے خطرات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔




