شائق کولا! پاکیزہ صفات سے متصف، ایک ہردلعزیز انسان کی رحلت
بقلم : محمد عاکف محتشم ندوی
میں جب یادوں کے دریچوں میں جھانکتا ہوں تو میرے ذہن کے نقشے پر ایک روشن تصویر ابھرنے لگتی ہے ۔ وہ میرے بچپن کا زمانہ تھا۔ ایسا خوبصورت بچپن جس میں کھیل کود بھی تھا اورعجیب مستیاں بھی ۔ وہ میرے بچپن کا زمانہ تھا۔ ایسا خوبصورت بچپن جس میں کھیل کود بھی تھا بھی ۔ ہمارے گھر کے بائیں جانب پڑوس میں جناب سلمان کولا صاحب مرحوم کا گھر تھا جو ہم سب بچوں کے لیے کھیل کود میں ایک مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو کھیل کود کے ساتھ دینی تعلیم اور دعوت و تبلیغ کا بھی مرکز بنایا تھا جہاں ایک طرف بچوں کے لیے کھیل کود اور تفریح کا سامان فراہم ہوتا تو دوسری طرف اللہ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کی فکریں اور کوششیں کی جاتیں ، جہاں سے لوگ دین کی بنیادی تعلیم بھی حاصک کرتے ہے اور اللہ سے جڑنے کی کوششیں بھی ۔
"اللہ تعالیٰ نے مرحوم سلمان صاحب کے تمام فرزندوں کو ان ہی کی طرح صالحیت اور صلاحیت کا پیکر بنایا۔ گویا وہ تمام ‘ألوَلَدُ سِرٌّ لِأَبِیهِ’ کا مصداق ہیں۔ ان کے بیٹوں کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر عام و خاص سے بلند اخلاق اور پاکیزہ صفات کے ساتھ پیش آتے، بالخصوص ان کی مہمان نوازی بے مثال تھی۔ انہی فرزندوں میں ایک نام مرحوم شائق کولا ہے؛ روشن چہرہ، بھری بھری داڑھی اور اپنے والد کے صحیح جانشین۔”
مرحوم جناب شائق صاحب میں ایک طرف والد کی رحمدلی اور شفقت تھی تو دوسری طرف انکی اولاد کی نگاہوں میں انکی ہیبت اور وقار بھی، میں نے روز مرہ کی زندگی میں اس بات کو ہمیشہ محسوس کیا کہ اپنی اولاد کی تربیت کے سلسلے میں وہ شفقت و نرمی کے ساتھ ساتھ وقار اور رعب و دبدبے کے حامل تھے۔ محبت اور شفقت کے ساتھ بوقت ضرورت اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے لیے تنبیہ اور ایسی سختی سے پیش آنا جس میں شفقت اور تربیت کا عنصر پوشیدہ ہو انکی نمایاں صفت تھیں وہ ہمیشہ اس بات کے قائل تھے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں کبھی بھی حد سے زیادہ نرمی نہ برتی جائے "اور لاڈ پیار میں ایسی بے جا چھوٹ نہ دی جائے کہ اولاد اس آزاد چڑیا کی مانند ہو جائے جس کی اڑان پر گرفت کرنے والا کوئی نہ ہو۔”
وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں محبت اور شفقت کے ساتھ ہر چیز کے آداب سکھانے کے پابند تھے ۔ ہر چیز کا ادب سکھانا اور ہر کام کرنے کا صحیح طریقہ بتانا جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو انکی عادتِ ثانیہ تھی۔ جسکے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انکی اولاد میں بھی وہ پاکیزہ صفات پیدا کی جس طرح کی صفات اور خصوصیات اپنی اولاد میں دیکھنے کے خواہش مند تھے ۔ انکے عالم دین فرزند اسکی ایک روشن مثال ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اور انکے تمام بھائی بہنوں کواپنے والد کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے ۔ آمین
مرحوم جناب شائق صاحب نے اپنی ابھرتی جوانی دعوت و تبلیغ میں گزاری ۔ انکی ذہنی اور جسمانی تمام صلاحیتیں دعوت و تبلیغ کے میدان میں صرف ہوئیں جسکے لیے انھوں نے امریکہ سے لیکر افریقہ تک کا سفر کیا اور اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین سے جوڑنے کی حتی المقدور کوشش کی ، میں نے اس بات کو ہمیشہ محسوس کیا کہ جب بھی لوگوں سے انکی ملاقات ہوتی تو وہ لوگوں اللہ کے دین سے جوڑنے کي فکر کرتے اور انکے اندر دینی فکر اور اخلاقی بیداری کو فروغ دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، وہ ہمیشہ اپنے پیارے اور البیلے انداز سے سامنے والے کو دینی اور اخلاقی تعلیمات سے روشناس کرنے کی کوشش کرتے جس سے سامنے والا بڑا متاثر ہوتا اور اسکے ذہن میں انکی اس دینی اور دعوتی جذبہ کی قدردانی ثبت ہوتی ۔
انہوں نے خود مجھ سے ایک مرتبہ مسجد کے ادب کے سلسلے میں ارشاد فرمایا کہ مساجد اللہ کا گھر ہیں اور یہاں ہم اپنی تمام دنیوی سرگرمیوں سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے آتے ہیں لہٰذا مسجد کے آداب کا تقاضہ یہ ہے کہ یہاں پر بغیر شدید ضرورت کے ہرگز موبائل کا استعمال نہ کیا جائے اور اس پاکیزہ فضا کو موبائل کی گندہ ماحول سے حتی الامکان پاکیزہ رکھنے کی کوشش کی جائے، وہ اپنی اس بات پر سب سے زیادہ عمل پیرا تھے مسجد کے پاکیزہ ماحول میں وہ کبھی اینڈرائیڈ فون استعمال نہیں کرتے تھے ۔ انکے سامنے جب بھی کوئی مسجد کی پاکیزہ فضا میں موبائل کا بے جا استعمال کرتا تو محبت اور پیار بھرے انداز میں انہیں اس سے باز رہنے کی تلقین کرتے اور موبائل بند کرکے تلاوت قرآن اور ذکر الٰہی میں مشغول ہونے کی دعوت دیتے تھے۔
سخاوت اور فیاضی انکی زندگی کا ایک ایسا خوبصورت باب ہے جس سے نہ جانے کتنے لوگ اور خاندان فیضیاب ہورہے تھے ۔ وہ چھپ چھپ کر نہ جانے کتنے بندگان خدا کی نصرت اور مدد میں لگے ہوئے تھے کہ انکے ساتھ رہنے والوں کو اسکی کانوں کان بھی خبر نہ تھی ، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا صحیح مصداق تھے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیکی اتنی چھپا کر کرو کہ اگر دایاں ہاتھ (جو عموماً دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے) خرچ کر رہا ہو، تو بائیں ہاتھ (یعنی اپنے قریبی ساتھی یا نفس) کو بھی پتہ نہ چلے۔ ریاکاری سے خود بھی بچتے اور دوسروں کو بھی ہمیشہ اس سے بچنے کی تلقین کرتے ۔۔۔۔
مرحوم شائق صاحب اہل اللہ اور علماء کے بڑے قدردان اور ان سے محبت کا معاملہ کرنے والے تھے، کئی مرتبہ ہم نے دیکھا کہ وہ علماء کا استقبال کرنے کے لیے بھٹکل سے مینگلور ایئرپورٹ پر خود کار چلا کر علماء کو ایئرپورٹ سے لانے کے لیے پہنچے اور انکا دل و جان سے استقبال کرنے کو اپنی سعادت سمجھا جو یقیناً انکی اہل اللہ اور علماء سے محبت کی روشن دلیل تھی ۔۔۔
مرحوم شائق صاحب صفہ ماڈل اسکول کے ٹرسٹی تھے ، وہ روز اول ہی سے اس اسکول کو ترقی کی اونچی اڑان بھرتے ہوئے دیکھنے کے خواہش مند تھے، وہ اسکول کے طلباء کو ہمیشہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت سے متصف ہونے پر بہت زور دیتے، طلبہ کی نمایاں خصوصیات کو سراہتے اور انکی اعلی کارکردگی پر انہیں اعلی انعامات سے نوازتے، وہ اس اسکول کو تعلیم و تربیت کا ایک ایسا بہترین مرکز بنانے کا خواب دیکھتے تھے جہاں کے طلباء عصری تعلیم کے ساتھ عربی زبان اور قرآنی تعلیمات میں مھارت پیدا کرنے والے بنیں جو معاشرے کے لیے ایک بہترین دینی رہنما ثابت ہوں اور پورا معاشرہ ان سے فیض یاب ہو ، اللہ تعالیٰ سے قوی امید ہے وہ یہاں کے نونہالوں کو دین کا داعی اور اسلام کا سپاہی بنائے گا جو پورے اسلامی معاشرے کے لیے روشن مینار کی حیثیت رکھنے والے ہوں گے ۔۔
انکے ذہن میں معاشرے میں دینی بیداری لانے کے لیے نہ جانے کتنے خواب تھے جو شرمندہ تعبیر ہونے کے منتظر تھے جن میں سے انکا ایک اہم خواب بھٹکل کے تمام تجارتی مراکز سے زکوٰۃ وصول کرنے کے ایک اجتماعی نظام کو قائم کرنے کے سلسلے میں ایک مکمل منصوبہ تھا جس کو نافذ کرنے کی تمام تفصیلات وہ اپنے ذہن میں رکھے ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ زکوٰۃ کی اجتماعی وصولی کا انکا وہ خواب اپنے کسی نیک بندے کے ہاتھوں شرمندہ تعبیر فرمائے ۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار خوبیوں اور پاکیزہ صفات سے متصف کیا تھا جس سے انکی زندگی آراستہ تھی ،انکی وفات کے بعد بے شمار لوگوں نے انکی اعلیٰ صفات اور عظیم خوبیوں کی گواہی دی جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں انکی مقبولیت کی ایک روشن دلیل ہے ۔
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں
اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے ،علماء اور اہل اللہ کے ساتھ انکا حشر فرمائے اور انکے تمام متعلقین اور اہل خانہ کو صبر جمیل سے نوازے ۔
زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت
آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے




