نیویارک میں فلسطین حامی تحریک کے نمایاں چہرے اور کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالب علم محمود خلیل نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی امیگریشن حراست سے رہائی حاصل کرنے کے مہینوں بعد بھی انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ حالیہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نیویارک شہر کی کونسل ممبر وکی پالاڈینو نے سوشل میڈیا پر محمود خلیل کے خلاف انتہائی پرتشدد اور معاندانہ زبان استعمال کی۔ وکی پالاڈینو نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں اشتعال انگیز تجویز دی کہ محمود خلیل کو ایک فوجی طیارے میں بٹھایا جائے اور شام کی فضائی حدود میں طیارے کے پچھلے حصے سے دھکا دے کر نیچے گرا دیا جائے۔
اس لرزہ خیز بیان پر ردعمل دیتے ہوئے محمود خلیل نے کونسل وومن کی ذہنیت کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک عوامی عہدے پر فائز خاتون کھلے عام ان کے قتل کے خواب دیکھ رہی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس تمام نفرت انگیز مہم کے باوجود الٹا انہیں ہی معاشرے کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ محمود خلیل کا یہ بیان ان کے خلاف جاری منظم نفرت اور انتقامی کارروائیوں کی عکاسی کرتا ہے جو ان کے سیاسی نظریات اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی وجہ سے شروع کی گئی ہیں۔
محمود خلیل کی مشکلات کا آغاز مارچ 2025 میں ہوا تھا جب انہیں کولمبیا یونیورسٹی کے کیمپس میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔ شام میں پیدا ہونے والے اس فلسطینی نژاد نوجوان کے پاس امریکہ میں قیام کے تمام قانونی دستاویزات موجود تھے اور ان پر کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی کا کوئی الزام نہیں تھا، اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں ہدف بناتے ہوئے ملک بدر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ کولمبیا یونیورسٹی کے اسکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کے طالب علم ہونے کے ناطے ان کی گرفتاری نے عالمی سطح پر آزادیِ اظہارِ رائے کے حوالے سے بحث چھیڑ دی تھی۔
جون 2025 میں ایک امریکی جج نے محمود خلیل کی حراست کو غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم صادر کیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی شخص کو محض اس کے سیاسی موقف کی بنیاد پر حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔ تاہم رہائی کے باوجود ان کی قانونی جدوجہد ختم نہیں ہوئی ہے۔ امریکی امیگریشن حکام تاحال ان کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر رہے ہیں اور عدالتی محاذ پر یہ جنگ اب بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے محمود خلیل کی زندگی مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
شہری حقوق کی تنظیموں نے کونسل وومن وکی پالاڈینو کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے نفرت انگیز تقریر اور تشدد پر اکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر امریکی سیاسی نظام میں موجود انتہا پسندانہ رجحانات اور فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کو واضح کر دیا ہے۔ محمود خلیل کا کیس اب محض ایک طالب علم کی ملک بدری کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ امریکہ میں انسانی حقوق، آزادیِ صحافت اور تعلیمی اداروں میں سیاسی آزادیوں کا ایک بڑا ٹیسٹ کیس بن چکا ہے۔


