بھٹکل: (فکروخبر/پریس ریلیز) آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرز ایسوسی ایشن (AIITA) کرناٹک یونٹ نے ریاست کے تمام سرکاری، امداد یافتہ اور نجی اسکولوں کے تعلیمی و ثقافتی پروگراموں میں فحش گانوں اور غیر اخلاقی رقص پر سختی سے پابندی عائد کرنے کے حکومتی فیصلے کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا ہے۔ آئیٹا کرناٹک کے ریاستی صدر جناب ایم آر مانوی نے اس حوالے سے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کا یہ قدم انتہائی قابلِ ستائش ہے اور بچوں کے وقار و نظامِ تعلیم کی ساکھ بچانے کے لیے ایسے فیصلے وقت کی ضرورت ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس قانون کا اطلاق صرف سرکاری اسکولوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ تمام نجی تعلیمی اداروں میں بھی اسے مکمل طور پر نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ اسکولوں میں سالانہ جلسوں کے نام پر نہ صرف غیر اخلاقی رقص بلکہ ایسے ڈراموں اور مکالموں پر بھی روک لگائی جا سکے جو معاشرے میں مذہبی منافرت پھیلاتے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں کو ہم آہنگی اور بھائی چارے کے مراکز ہونا چاہیے نہ کہ نفرت پھیلانے کے پلیٹ فارم۔ محکمہ اسکولی تعلیم کے حالیہ سرکلر کے مطابق غیر اخلاقی رقص طلبہ کی ذہنی صحت اور اخلاقی اقدار پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، اسی لیے اب اسکولوں میں فحاشی کے بجائے حب الوطنی، مثبت سوچ، اور مقامی ثقافت و عظمت پر مبنی نغموں کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار سکھانے والے خاکے پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مزید پروگراموں کے دوران طلبہ کے لیے مہذب لباس کے استعمال کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ آئیٹا نے محکمہ کے اس سخت موقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ڈپٹی ڈائریکٹرز اس معاملے کی کڑی نگرانی کریں تاکہ اسکولوں کا ماحول تعلیمی اور اخلاقی اعتبار سے ہر طرح سے سازگار رہے۔




