تحریر ۔ مولانا سید ہاشم نظام ندوی
ایڈیٹر انچیف فکرو خبر بھٹکل
شائق کولا
( کچھ لوگ بچھڑ کر بھی دلوں میں رہتے ہیں… ہمیشہ کے لیے )
تحریر ۔ سید ہاشم نظام ندوی
سن 1991ء کا وہ زمانہ… جب دار العلوم ندوۃ العلماء کی فضا علم، سادگی اور خلوص کی خوشبو سے معطر تھی، آج بھی دل کے دریچوں میں اسی طرح مہک رہا ہے جیسے کوئی پرانی مگر عزیز یاد۔ ہم اس وقت جامعہ اسلامیہ بھٹکل سے عالمیت کی تکمیل کے بعد فضیلت اول کے طالب علم تھے، زندگی اپنے سادہ مگر حسین رنگوں میں رواں تھی کہ انہی دنوں بھٹکل سے آئے ہوئے دو معصوم چہرے ہمارے حلقۂ احباب کا حصہ بنے، شائق کولا اور شبیب کولا ۔ دو بھائی… دو مسکراہٹیں… دو الگ مگر ایک ہی کہانی کے دو روشن باب۔
وہ خصوصی درجات کے طلبہ تھے، خاص گھنٹوں میں ان کے لیے شرکت کا خصوصی انتظام تھا۔ ان دونوں کی معصومیت میں ایک خاص کشش تھی، آنکھوں میں چمک، لہجوں میں شیرینی، اور برتاؤ میں ایسی بے ساختہ سادگی کہ دل خود بخود ان کی طرف مائل ہو جاتا۔ جہاں خلوص بولتا ہے اور مسکراہٹیں خاموشی سے دلوں کو جوڑتی ہیں۔ ان کے ساتھ گزرے ہوئے وہ لمحے وقت کے دامن میں سمٹ تو گئے، مگر یادوں کے افق پر آج بھی روشن ہیں۔
شائق…، وہ صرف ایک نام نہ تھا، بلکہ ایک احساس تھا، زندگی کی تازگی کا، بے ساختہ مسکراہٹوں کا، اور سادہ مگر گہرے جذبات کا۔ اس کی ہنسی میں اپنائیت تھی، اور گفتگو میں ایسی سچائی جو سیدھا دل میں اترتی تھی۔ پھر وقت گزرتا گیا، راہیں جدا ہوئیں، اور زندگی نے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں مصروف کر دیا، مگر کچھ چہرے دل کے نہاں خانوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں… شائق بھی انہی میں سے ایک تھا۔
پھر جمعرات کے با برکت دن گزر کر شبِ جمعہ کے آغاز کے ساتھ ہی … اچانک خبر آئی کہ شائق اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ زندگی کی صرف (۱ ۵) اکاون بہاریں گزار کر، دل کے ایک خاموش مگر فیصلہ کن لمحے نے اسے ہم سے جدا کر دیا۔ یہ خبر بجلی بن کر گری۔ وہ معصوم چہرہ، وہ مسکراتی آنکھیں، وہ سادہ دل انسان، بس اب یادوں کی دنیا کا ایک عکس بن چکا تھا۔ تب احساس ہوا کہ زندگی دراصل چند لمحوں کی مسافت، چند چہروں کی رفاقت، اور پھر ایک خاموش جدائی کا نام ہے۔
ندوہ میں قیام کے دوران ان کے والدِ ماجد مرحوم سلمان کولا اور چچا مرحوم مظفر کولا صاحبان کی خاص فکر تھی کہ وہ صرف اساتذہ ہی نہیں بلکہ اکابر و بزرگانِ دین سے بھی فیض یاب ہوں۔ چنانچہ انہیں مولانا سعیدالرحمن الاعظمی ندوی اور مولانا رضوان ندوی جیسے بڑے اساتذہ سے جوڑا گیا۔ یہی نسبت، یہی تربیت ان کی زندگی کی بنیاد بن گئی۔ بعد کی عملی زندگی میں بھی وہ اسی رنگ میں ڈھلتے رہے۔ بڑوں کا احترام، اہلِ علم سے وابستگی، اور اپنی وضع قطع کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنا۔ جہاں بھی رہے، اپنی اسلامی اور دعوتی شناخت کے ساتھ استقامت سے جڑے رہے۔ گویا انہوں نے سیکھا ہوا علم، عمل کی صورت میں زندہ کر دیا۔ وہ نہایت شریف، خوش اخلاق اور دینی مزاج رکھنے والے انسان تھے، سخاوت وفیاضی انہیں ورثہ میں ملی تھی۔ صدقہ و خیرات اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ۔ شفقت اور رحم دلی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ اپنی ابھرتی جوانی دعوت و تبلیغ کے میدان میں گزاری۔ ساتھ ہی صفہ ماڈل اسکول کے ٹرسٹی بن کر تعلیمی خدمات اور سرپرستی کا فریضہ انجام دیا۔
شائق… ندوہ کی راہداریوں کا وہ خاموش مسافر، جس نے اگرچہ رسمی تعلیم کی آخری منزل مکمل نہ کی، مگر زندگی کے اصل سبق خوب سیکھ لیے تھے۔ اس نے دعوت و تبلیغ کے راستے کو اپنایا، اور یوں علم کو عمل کا لباس پہنا دیا۔ پھر اس کی زندگی میں ایک نیک رفاقت شامل ہوئی، ایک ایسا گھرانہ جس نے اس کی زندگی کو محبت، دینداری اور سکون سے بھر دیا۔ جناب زبیر خطیبی کی صاحبزادی، اور مولانا غزالی ندوی خطیبی علیہ الرحمہ کی بھتیجی ان کی زوجیت میں آ گئی، جس نے اس کے گھر کو دین داری، محبت اور سکون کا گہوارہ بنا دیا۔
وقت کے ساتھ اس کی زندگی ایک سایہ دار درخت بن گئی، اولاد کی صورت میں نیک اور صالح پھل نصیب ہوئے۔ اس نے اپنی اولاد کی تربیت دین کی بنیادوں پر کی۔ ان کا بڑا بیٹا، جو باپ کے نام کا امین بنا، سلمان کولا سے موسوم ہوا، طالبانِ علوم نبوت کی فہرست میں شامل ہو کر علم و عمل کا پیکر ہوا ، ایک عالم، ایک حافظ، ایک خوش الحان قاری بنا ۔ دیگر اولاد بھی تعلیم و کردار میں نمایاں، اور ایک بیٹی صفہ اسکول کی معلمہ بن کر علم کی شمعیں روشن کرتی ہوئی۔ یوں لگا کہ شائق کولا خود تو رخصت ہو گیا، مگر اپنی روشنی اپنی نسل میں منتقل کر گیا ، جیسے کوئی چراغ بجھ کر بھی روشنی کا سفر جاری رکھے۔
خاندانی روایت کے مطابق انہوں نے تجارت کو اپنایا۔ اپنے بھائیوں کے ساتھ سونے کے کاروبار میں قدم رکھا، اور "پیور گولڈ” کے نام سے ایک ایسی پہچان قائم کی جو بھٹکل میں اعتماد کی علامت بن گئی۔ مگر ان کی تجارت صرف کاروبار نہ رہی، بلکہ امانت، سچائی اور خیرخواہی کا عملی نمونہ تھی۔ رمضان المبارک کی آمد پر زکوٰۃ کے حساب سے لے کر وراثت کی تقسیم تک، عام لوگ اور علماء بھی ان سے رہنمائی لیتے۔ یوں ان کی دکان ایک تجارتی مرکز ہی نہیں، بلکہ خدمت اور خیرخواہی کا مرکز بھی بن گئی۔
تو کیا شائق واقعی چلا گیا…؟؟؟ نہیں نہیں ۔۔۔ وہ آج بھی زندہ ہےیادوں میں، اخلاق میں، ان لمحوں میں جو اس نے ہمارے ساتھ گزارے۔ اس کی سادگی، اس کا خلوص، اس کی مسکراہٹ، یہ سب آج بھی دل کی دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ شائق کو اپنی بے پایاں رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، اس کی قبر کو نور سے بھر دے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین۔
اور ہم…؟ہم تو بس یادوں کے مسافر ہیں، کبھی ماضی کی گلیوں میں لوٹتے ہیں، کبھی کسی چہرے کو ڈھونڈتے ہیں، اور پھر خاموشی سے یہ مان لیتے ہیں کہ:
"کچھ لوگ بچھڑ کر بھی دلوں میں رہتے ہیں… ہمیشہ کے لیے۔”




