مرحوم شائق بن سلمان کولا کی یاد میں

تحریر: سید علی رضا یس یم

30/ اپریل 2026 بروز جمعرات عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد راقم نے جب واٹس اپ کھولا تو جناب شائق کولا کے انتقال کی خبر تھی، خبر پڑھتے ہی شروع میں یقین نہیں آیا، اس کی تصدیق کے لیے راقم نے اپنے ایک دوست کو فون لگایا تو اس نے روتے ہوئے فرزان خبر کے واقع ہونے کی تصدیق کردی، اناللہ وانا الیہ راجعون مرحوم شائق بن سلمان کولا کا شمار شریف، نیک طبیعت کے حامل، اہل علم قدردان، اللہ والوں اور بزرگان دین کے خدمت گزار، نیک، صالح، صاحب الرائے اور دین پسند تاجروں میں ہوتا تھا۔دعوت وتبلیغ کی محنت اور بزرگان دین کی صحبت نے آپ کی زندگی میں انقلاب پیدا کیا،آپ نے اپنا پہلا چلہ، جناب غزالی گنگاولی کی جماعت کے ساتھ لگایا تھا، اس کے بعد آپ کا مولانا اکبر شریف ندوی بنگلوری، جناب محترم وسیم لونا اور کاڑلی اشفاق کے ساتھ جنوبی امریکہ( وینزویلا) پانچ مہینوں کے لیے جانا ہوا، جماعت سے واپسی کے بعد آپ نے دعوت وتبلیغ کی محنت کو اپنا اوڑھنا، بچھونا بنایا اور وفات تک پوری دلچسپی کے ساتھ اس میں لگے رہے، آپ اپنے حلقہ کے ہفتہ واری مشورے میں پابندی کے ساتھ حاضر ہوتے تھے، جب شاذلی مرکز میں ہماری حلقہ کی کچھ بھی ذمہ داری ہوتی، اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، مہینے میں ایک مرتبہ جب ہماری ذمہ خدمت ہوتی خود اپنے ذمہ خدمت کی ذمہ داری لے کر اس کو بحسن خوبی پورا کرتے، اور اس میں اپنا جان ومال خوب لگاتے،باہر سے مہمان جماعتیں محلہ کی مسجد میں آتی تو ان کی خوب نصرت کرتے، بھٹکل میں چھوٹے بڑے جوڑ اور سالانہ اجتماعات کے موقعوں پر خوب ساتھ دیتے، سالانہ بڑے اجتماعات کے موقعوں پر بزرگوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ اپنے آپ کو آگے رکھتے ، بھٹکل سے باہر چلہ اور چار مہینے کی جماعتیں جاتی، تو ان جماعتوں کی نصرت کے لیے ذمہ داروں کے ساتھ مشورہ کرکے دو دن تین دن کے لیے دور دراز کا سفر کرکے جاتے اور جماعت میں موجود نوجوانوں کی دین کے اعتبار سے خوب ذہن سازی کرتے ، اللہ تعالٰی نے آپ کو کئی سارے نوجوانوں کی ھدایت کا اور کئی سارے افراد کی دین میں پختگی کا ذریعہ بنایا، آپ دعوت کا کام فیلڈ میں اتر کر کرنے پر یقین رکھتے تھے، آپ زیادہ تر خاموشی رہنا پسند کرتے تھے، لیکن جب بھی بولتے سوچ سمجھ دین کا فائدہ سامنے رکھ کر بولتے تھے، آپ بظاہر کئی سالوں سے گولڈ سوق کے مالک کے طور پر سونے کے کاروبار سے وابستہ رہ کر محنت کررہے تھے، لیکن آپ نے کبھی بھی اس کو دنیا جمع کرکے اپنے لیے پراپرٹی بنانے کا ذریعہ نہیں بنایا، آپ آج بھی اپنی فیملی کے ساتھ کرایے کے گھر میں رہتے ہیں۔ آپ نے اپنے لیے ذاتی مکان بھی نہیں خریدا، آپ نے اپنی اولاد کی دینی اعتبار سے اچھی تربیت فرمائی ، آپ نے اپنے دو فرزندان کو جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں داخل کیا ، اس میں سے ایک نے جامعہ سے عالمیت کی تکمیل کی اور حفظ قران کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔۔۔اللہ تعالی آپ کی اولاد کو اپنے والدین کے لیے ذخیرہ آخرت بنائے، آمین غرض مرحوم شائق کولا صاحب کے اندر اللہ تعالٰی نے بے شمار خوبیاں اور اوصاف رکھے تھے، اللہ تعالٰی ہم سبھوں کو ان اوصاف کو اپنا کر اپنی زندگی کے رخ کو صحیح کرنے کا ذریعہ بنائے ، آمین یا رب العالمین دعا ہے کہ اللہ تعالٰی مرحوم شائق کولا کی بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جمیع پسماندگان کو صبر، ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین

شیئر کریں۔