ہندوستان کی پانچ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اسمبلی انتخابات کے خاتمے کے فوراً بعد ایگزٹ پولز کے نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ بدھ کی شام جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مغربی بنگال میں حکمران ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ ہے جبکہ آسام میں این ڈی اے آسانی سے اقتدار برقرار رکھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ جنوبی ریاستوں میں تمل ناڈو کے اندر ڈی ایم کے اتحاد کی واپسی کی پیش گوئی کی گئی ہے اور کیرالہ میں یو ڈی ایف ایک دہائی کے بعد لیفٹ کو شکست دے کر حکومت بناتی دکھائی دے رہی ہے۔
مغربی بنگال ایگزٹ پول
مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی قیادت والی ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان انتہائی دلچسپ جنگ جاری ہے۔ میٹرائز، اے بی پی اور چانکیا اسٹریٹجیز جیسی ایجنسیوں نے بی جے پی کو 140 سے زائد نشستوں کے ساتھ برتری دی ہے تاہم پیپلز پلس کے مطابق ٹی ایم سی 110 سے زیادہ نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔ ٹی ایم سی کے رہنماؤں نے ان ایگزٹ پولز کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی کی شاندار کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب آسام میں ایکسس مائی انڈیا اور جے وی سی ٹائمز ناؤ سمیت تمام بڑے پولسٹرز نے بی جے پی اتحاد کے لیے واضح اکثریت کی پیش گوئی کی ہے جبکہ کانگریس یہاں پچھڑتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔
تمل ناڈوایگزٹ پول
تمل ناڈو کے سیاسی منظر نامے میں اداکار وجے کی نئی پارٹی ٹی وی کے نے زبردست انٹری ماری ہے۔ سی این این نیوز 18 اور دیگر پولز کے مطابق وجے کی پارٹی کو خواتین اور نوجوانوں کی بھرپور حمایت مل رہی ہے حالانکہ نشستوں کے اعتبار سے ایم کے اسٹالن کی قیادت والا ڈی ایم کے اتحاد 125 سے زیادہ سیٹوں کے ساتھ واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ کیرالہ میں پنارائی وجین کی ذاتی مقبولیت کے باوجود ایگزٹ پولز کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف کے حق میں اشارہ کر رہے ہیں۔ پڈوچیری میں بھی این ڈی اے ابتدائی اعداد و شمار میں آگے ہے۔
کیرالہ ایگزٹ پول
کیرالہ کے حوالے سے ایکسس مائی انڈیا کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یو ڈی ایف کو تمام عمر کے طبقوں میں سبقت حاصل ہے۔ ریاست میں یو ڈی ایف کو 44 فیصد، ایل ڈی ایف کو 39 فیصد اور این ڈی اے کو 14 فیصد ووٹ شیئر ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ سی این این نیوز 18 کے ڈیٹا کے مطابق شمالی کیرالہ میں یو ڈی ایف آگے ہے جبکہ وسطی کیرالہ میں سخت مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔ جنوبی کیرالہ میں بھی تکڑے کا مقابلہ ہے جہاں این ڈی اے کی موجودگی پہلے سے زیادہ مضبوط محسوس کی جا رہی ہے جو حتمی نشستوں پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
آسام ایگزٹ پول
آسام اسمبلی انتخابات 2026 کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد ایگزٹ پولز کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سی این این نیوز 18 کے تازہ ترین ایگزٹ پول کے مطابق ریاست میں بی جے پی کی زیر قیادت قومی جمہوری اتحاد ایک بار پھر بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپسی کر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 126 رکنی آسام اسمبلی میں این ڈی اے کو 90 سے 100 نشستیں ملنے کی واضح پیش گوئی کی گئی ہے۔
ایگزٹ پول کے تخمینے اپوزیشن کے انڈیا اتحاد کے لیے مایوس کن صورتحال پیش کر رہے ہیں۔ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو صرف 23 سے 33 نشستوں تک محدود رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بدرالدین اجمل کی آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کی کارکردگی انتہائی کمزور دکھائی دے رہی ہے اور اس کے حصے میں محض صفر سے چھ نشستیں آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی کو ریاست میں فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔
آسام میں گزشتہ دو ادوار سے بی جے پی کی حکومت ہے اور وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی قیادت میں پارٹی نے ریاست بھر میں اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس بار متحد ہو کر حکمران جماعت کو ٹکر دینے کی کوشش کی تھی
یہ اسمبلی انتخابات ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر مغربی بنگال میں بی جے پی کی جانب سے ٹی ایم سی کے قلعے میں شگاف ڈالنے کی کوشش اور تمل ناڈو میں ایک تیسری طاقت کے طور پر ٹی وی کے کا ابھرنا آئندہ کی سیاسی صف بندی کو متاثر کرے گا۔ خواتین ووٹرز نے اس بار کئی ریاستوں میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے جو ان نتائج کی بنیادی وجہ بن سکتا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق یہ صرف ابتدائی اور تخمیناتی نتائج ہیں۔ سیاسی پارٹیاں، امیدواروں اور عوام کی نظریں اب حتمی نتائج پر مرکوز ہیں۔ حکومت سازی اور حقیقی صورتحال کا فیصلہ ووٹوں کی گنتی کے دن ہی ہوگا۔
سیاسی ماہرین اور عوام دونوں انتخابی نتائج کے حتمی اعداد و شمار کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ ایگزٹ پولز کی یہ پیش گوئیاں اگر حقیقت کا روپ دھارتی ہیں تو ملک کی سیاسی فضا میں نئی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی جو آنے والے سالوں میں ریاستی ترقی اور قومی سیاست کا راستہ طے کریں گی۔



