مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے بدھ کے روز ہونے والی پولنگ شدید تشدد، بے ضابطگیوں کے الزامات اور تکنیکی مسائل کی نذر ہو گئی۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی تلخی پولنگ مراکز پر کھلے تصادم کی صورت میں نظر آئی۔ ریاست کے مختلف حصوں بالخصوص چھاپرا، شانتی پور اور بھانگر جیسے حساس علاقوں سے بدامنی اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
چھاپرا میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب بی جے پی کے ایک پولنگ ایجنٹ مشرف میر نے دعویٰ کیا کہ ان پر راڈوں سے مسلح افراد کے گروہ نے حملہ کیا۔ متاثرہ ایجنٹ کے مطابق وہ اس تشدد کے نتیجے میں بے ہوش ہو گئے تھے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کی ہے تاہم ٹی ایم سی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہاوڑہ سمیت کئی مقامات پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے ووٹنگ کا عمل گھنٹوں متاثر رہا، جس پر ٹی ایم سی رہنما چندریما بھٹاچاریہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشینوں کی خرابی نے پولنگ کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔
بی جے پی نے برسراقتدار جماعت پر بوتھ کیپچرنگ اور دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ بی جے پی رہنما امت مالویہ نے الزام لگایا کہ بعض پولنگ بوتھس پر جان بوجھ کر ان کی پارٹی کے انتخابی نشان کو ڈھانپنے یا بلاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بی جے پی نے ان تمام علاقوں میں دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا ہے جہاں تشدد اور انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ متعدد مقامات پر بی جے پی کے کیمپ دفاتر اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جس نے انتخابی گہما گہمی کو خوف و ہراس میں بدل دیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے مرکزی فورسز پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی فورسز بی جے پی کے حق میں کام کر رہی ہیں اور ووٹرز کو ڈرا دھمکا کر انتخابی عمل میں مداخلت کی جا رہی ہے۔ ٹی ایم سی کے سینیئر لیڈر ابھیشیک بنرجی نے بھی انتخابی مبصرین پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام لگایا۔ واضح رہے کہ اس مرحلے میں 142 حلقوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے، جن میں سب سے ہائی پروفائل نشست بھوانی پور ہے جہاں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا مقابلہ بی جے پی کے قدآور رہنما سویندو ادھیکاری سے ہے۔
مرکزی فورسز کی بھاری تعیناتی اور سخت نگرانی کے باوجود تشدد کے انفرادی واقعات نے انتخابی ماحول کو بوجھل بنا دیا ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی خوف کے بغیر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ مغربی بنگال کے اقتدار کا فیصلہ اب 4 مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے بعد واضح ہوگا، لیکن دوسرے مرحلے کی یہ بدامنی ریاست کے سیاسی مستقبل کے لیے کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔



