ڈاکٹر احمد سجاد ۔ ایک عظیم ادبی ، تعلیمی وسماجی شخصیت

تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)

مورخہ 26/ اپریل رانچی سے ڈاکٹر احمد سجاد صاحب کے اس دنیائے فانی سے کوچ کرنے کی خبر آئی ہے۔ آپ کی رحلت کے ساتھ بہار  اور جھارکنڈ کی ثقافتی تہذیبی اور ادبی تاریخ کا ایک سنہرا باب بند ہوگیا ہے۔ اب دور دور تک بہار و جھارکنڈ ہی کیا وطن عزیز  کے دوسرے علاقوں میں بھی اس نسل اور پائے کے دانشور اور اہل علم افراد نظر نہیں آتے جس کی نمائندگی ڈاکٹر احمد سجاد مرحوم کیا  کرتے تھے۔آپ نے عمر عزیز کے (87) سال اس دنیائے فانی میں گذارے، آپ کی پیدائش12/ اکتوبر 1939ء   بہارشریف کے محلہ سوہ ڈیہہ (بہار شریف) میں ہوئی تھی۔ یہیں پر تاریخی قصبہ منیر شریف واقع ہے، جسے سلسلہ فردوسیہ کے مخدوم شرف الدین یحیی منیری رحمۃ اللہ کی نسبت نے مرجع خلائق بنا دیا ہے۔  

مورخین کے مطابق منیر شریف شمالی ہند کے ان تاریخی علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں پر اسلام کی کرنیں پہلے پہل داخل ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ مورخہ 27 رجب المرجب بروز جمعہ سنہ 576 ھجری، یہاں پر شیخ یحیی منیری کے جد امجد امام محمد تاج فقیہ ہاشمی خلیلی رحمۃ اللہ علیہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ کی بشارت سے ہزاروں میل کا سفر طے کرکے بیت المقدس سے بہار شریف پہنچے تھے۔ اور اس خطہ کو پہلے پہلے توحید کے نور سے روشن کیا تھا۔ (آثار منیر۔ 17) اور اسے فتح کرکے وقت کے راجہ کے ظلم وستم سے آزاد کیا تھا۔ 

ان بزرگوں نے اسلام کی دعوت کو گاؤں گاؤں دیہات دیہات میں پھیلایا، جس کے طفیل بنگلہ دیش کے اندرونی علاقے تک اسلام کی دعوت سے متاثر ہوئے۔  

یہ وہ زمانہ تھا جب کہ بدھ مذہب کے پیروکاروں  کے لئے سب سے مقدس مقام کی حیثیت رکھنے والی زمین ” بدھ گیا” ، تنگ ہوگئی تھی، اور بدھ مذہب کے پیرو آریوں کی بالادستی اور ظلم سے تنگ آکر جنگلوں اور پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ ان نووارد مسلمان بزرگوں کے محنت سے اس علاقے کے جنگلوں اور دیہاتوں کے اندرونی علاقوں میں دور دور تک اسلام کا پیغام پہنچ گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جہاں  جہاں جہاں اسلام کے یہ اولین قافلے پہنچے وہاں وہاں اسلام کی  خالص کرنیں پہنچ پائیں- مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن ندویؒ شیخ منیری کے خطوط  جو مکتوبات صدی کے نام سے مشہور ہیں،  اسے پڑھ کر کہا تھا کہ تعجب ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جب  کہ در خیبر کے راستے برصغیر میں داخل ہونے والا اسلام بدعات وخرافات سے پر نظر آتا ہے اس دور کے  ان  مکتوبات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اس میں پیش کی گئی دعوت کتنی خالص اور بدعات  وخرافات سے دور ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے بہار شریف کے  قدیم مدرسے مدرسہ منیر الاسلام میں مکتب کی تعلیم حاصل کی تھی ، یہ مدرسہ ایک صدی قبل  سنہ 1901ء میں قائم ہوا تھا۔ تقسیم ہند سے قبل جب ڈاکٹر صاحب نے اس دنیا میں آنکھ کھولیں تھیں تو اس وقت یہ علاقہ علم و تہذہب  کا گہوارہ تھا۔

یہاں بڑے بڑے عالم اور ودوان پیدا ہوئے تھے، یہیں قریب میں دیسنہ تھا، جہاں کے علامہ سید سلیمان ندوی تھے، یہیں عظیم آباد کی خدا بخش لائبریری کے بعد مشرقی کتابوں کی دوسری بڑی لائبریری پائی جاتی تھی۔

لیکن تقسیم ہند کے ساتھ ان علاقوں کی بہاریں اجڑ گئیں، فرقہ پرستی کی ایسی ہوا چلی کہ جس نے سب کچھ  تاراج کردیا۔ پنجاب، بہار اور بنگال ملک کے یہ تین علاقے ایسے تھے جسے تقسیم ہند نے سب سے زیادہ خون آلود کردیا تھا، مسلمان محلوں کو منصوبہ بند طور پر  ختم کردیا گیا تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے مدرسہ منیر الاسلام میں چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی،انگریزی زبان حساب وریاضی کی تعلیم پرائیوٹ طور پر ماسٹر محمود الحسن مرحوم سے پائی تھی۔ جو شاید اس زمانے میں  ماہانہ دو روپئے ٹیویشن کی فیس لیتے تھے، اس کے بعد آپ نے صغری انگلش ہائی اسکول میں داخلہ لیا، جسے ایک اہل خیر مسلم خاتوں نے قائم کیا تھا، جس نے مدرسہ عزیزیہ کے نام سے ایک دینی دارالعلوم بھی قائم کیا تھا، جس میں اقامتی ہاسٹل بھی تھا۔

آپ کے والد سرکاری ملازم تھے، جن کی ڈیوٹی مختلف جگہوں پر لگا کرتی تھی۔ جس کی وجہ سے آپ نے پہلے پہل اپنے والد سے زیادہ  اپنے دادا حکیم جمیل احمد کا  اثر قبول کیا۔ حکیم صاحب شیخ الھند مولانا محمود الحسن دیوبندی ؒ کے شاگردوں میں تھے، آپ نے ایک طویل عمر پائی تھی۔ آپ پندرہ بیس سال تک مدرسہ منیر الاسلام کےمہتمم رہے۔ آپ علمائے صادق پور پٹنہ سے تعلقات ومراسم رکھتے تھے۔ جو کہ حضرت شاہ احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک جہاد کے وارث تھے۔

بنیادی طور پر آپ کے دادا ایک تاجر تھے، جن کی طویل وعریض زرعی اراضی تھیں۔ جس میں کسان کاشت کرتے تھے۔ سلیس اردو بولتے تھے، لیکن حساب وکتاب مہاجنی انداز میں ہندی رسم الخط میں  لکھتے تھے۔ جب ڈاکٹر صاحب چوتھی پانچویں میں تھے، تو آپ کا حساب کھاتہ اردو میں لکھنا شروع کیا ۔ آپ یتیموں اور غریبوں کی خبر گیری کرتے تھے، انہیں گھر پر بلا کر کھانا کھلاتے۔ حساب پائی پائی کا رکھتے تھے۔ یاد داشت اسی نوے کی عمر میں بھی بہت مضبوط تھی۔

اسکول کے اساتذہ میں آپ  حافظ ظہیر سے بڑے متاثر ہوئے، جو تین چار میل کا سفر کرکے بڑی پابندی سے اسکول پہنچا کرتے تھے۔ اس زمانے کے اساتذہ میں وقت کی پابندی کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ 1953ء میں آپ نے دسویں کلاس پاس کی۔

پھر پٹنہ کالج سے 1957ء میں  بی اے آنرس پاس کیا، اس کے بعد اردو فارسی میں اعلی نمبرات سے یم اے مکمل کرکے سمستی پور ڈگری کالج میں لکچرر مقرر ہے، پھر 1964ء میں آپ کی تقرری رانچی کالج، رانچی یونیورسٹی میں ہوئی۔  1999ء میں  یونیورسٹی سروس سے سبکدوش ہوئے۔

آپ کی طالب علمی کے دور میں  پٹنہ کالج ملک کے بہترین اور باوقار کالجوں میں شمار ہوتا  تھ۔خود  پٹنہ شہر کی پہچان ایک تعلیمی شہر کی تھی۔ یونیورسٹی اور کالجوں سے اس کی رونق تھی۔ جب ان تعلیمی اداروں  میں چھٹی ہوتی تو شہر ویران نظر آتا تھا۔ کالج کے اساتذہ بڑے  علمی و ادبی پائے کے ہوتے تھے۔ ان   میں ڈاکٹر کلیم الدین احمد تھے، جن کے تذکرے کے بغیر اردو تنقید کی تاریخ ادھوری رہ جائے گی۔ شہر کی بھیڑ بھاڑ سے دور بھاگتے تھے، بولنے میں کمزور تھے، مجالس میں تقریر نہیں کرتے تھے، کم آمیزی میں مشہور تھے۔  لیکن تھے انگریزی زبان  و ادب کے ٹایکون  ۔

آپ کے ایک اور استاد ڈاکٹر اختر اورینوی تھے، اردو کے بڑے شاعر ادیب اور فکشن نگار تھے۔ سجاد صاحب  نے اپنی  ڈاکٹریٹ کا مقالہ آپ ہی کے زیر نگرانی تیار کیا تھا۔

آپ کے ایک اور استاد جمیل مظہری تھے جو پایہ کے شاعر، ادیب اور مقرر تھے۔

اس زمانے میں اردو تحقیق میں بہت بڑا نام قاضی عبد الودود کا تھا، جو بابائے تحقیق شمار ہوتے تھے۔ آپ نے وکالت میں لندن سے بیرسٹری کی سند حاصل کی تھی۔ لیکن اپنی زندگی اردو کے لئے وقف تھی۔  اصول وضوابط    اور وقت کے بڑے پابند تھے۔ اور اس میں کسی  رو و رعایت کے روادار نہیں تھے،  سابق صدر ہند فخر الدین علی احمد آپ کے ساتھیوں میں تھے،ایک مرتبہ کا جب آپ  آسام کے دورے سے واپس آرہے تھے تو  پٹنہ اتر کر   قاضی عبد الودود سے ملاقات کا ارادہ ظاہر کیا، قاضی صاحب نے شام ساڑھے آٹھ گھنٹے عشائیہ کا وقت دیا، اور اپنے چند دوستوں کو بھی اس میں مدعو کیا، ساڑھے آٹھ بجے جب کسی مصروفیت کے باعث فخر الدین علی احمد قاضی صاحب کےوقت پر عشائیے میں  نہ پہنچ سکے تو قاضی صاحب نے آئے ہوئے دوستوں سے معذرت کی کہ مہمان خصوصی کسی وجہ سے وقت پر پہنچ نہیں سکے ہیں، آپ کھانا تناول فرمائیں، مہمان پہنچیں گے تو بعد میں کھالیں گے۔   ان کا انتظار نہ کریں، صدر ہند  کوئی پندرہ بیس منٹ دیر سے پہنچے  ،    تاخیر پر معذرت کی اور کھانا کھایا۔

ڈاکٹر احمد سجاد صاحب کا ارادہ ” اردو ادب میں اخلاقی قدریں” کے عنوان پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھنے کا تھا، اور آپ کے سپروائزر ڈاکٹر اختر اورینوی نے اس کی منظوری بھی دی تھی،  لیکن قاضی صاحب نے آپ کو مشورہ دیا کہ یہ موضوع آپ کے لئے نیا نہیں ہے۔ اس میں آپ کو سیکھنے کے لئے کچھ نہیں ہے، آپ مخطوطات کی تحقیق پر کام کریں، کیونکہ یہ محنت طلب  کاہے، اس میں سیکھنے کے لئے بہت کچھ  نیا ملے گا۔ اور آپ نے غلام علی عشرت بریلوی رامپوری پر تحقیقی کام کرنے کا مشورہ دیا۔

اس وقت تک عشرت بریلوی کا ڈاکٹر صاحب نے صرف نام سنا تھا، ان کے بارے میں کچھ بھی انہیں معلوم نہیں تھا،نہ ہی کوئی مواد دستیاب تھا،  سات آٹھ مہینے تک توسجاد صاحب  اسی میں  سرگرداں رہے، پر بھی آپ کے حالات کے بارے میں  کوئی سراغ نہ مل سکا، اتفاق سے ایک روز تذکرہ کاملان رامپور نامی کتاب کا نام رضا لائبریری رامپور کی فہرست میں آپ کی نظر سے گذرا ، لائبریرین  سے کتاب  طلب کی تو اس نے  کہا کہ ابتک یہ کتاب کسی نے کتب خانے  سے نکال کر نہیں دیکھی ہے۔اسے دیکھنے والے آپ پہلے شخص ہیں،  سجاد صاحب نے جب کتاب نکالی تو اس میں آپ کو عشرت بریلوی کے سلسلسے میں دس بارہ صفحات مل گئے جس سے آپ کو تحقیق کا ایک سرا مل گیا اور آپ نے ” دبستان رامپور کا ایک اہم فنکار غلام علی عشرت بریلوی”  کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالہ تیار کیا ، جو ایک ہزار صفحات  اور دوحصوں پر مشتمل ہے، پہلا حصہ عشرت بریلوی کے سوانح اور حالات پر مشتمل ہے اور دوسرا داستان سحر البیان کے متن کی تحقیق پر ، جسے آپ نے برٹس میوزم لائبریری لندن ، رضا لائبریری رامپور کے قلمی نسخوں کا موازنہ کرکے مرتب کیا تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور لکھنو یونیورسٹی کے ممتحن حضرات نے 1972ء میں  ا ٓپ کی دیدہ ریزی اور محنت شاقہ کو دیکھ کر  پی ہیچ ڈی سے اعلی ڈی لٹ کی سند کی سفارش کردی۔

ڈاکٹریٹ کے اس مقالے کی تیاری کے موقعہ پر آپ کو علامہ امتیازعلی عرشی جیسے عظیم محقق  و زبان دان سے استفادہ کا موقعہ نصیب ہوا۔اور  قاضی  عبد الودود کی عملی نگرانی    حاصل رہی۔

رامپور اس زمانے میں جماعت اسلامی کا اہم علمی وتحریکی مرکز ہوا کرتا تھا، یہاں آپ کو مولانا ابو سلیم عبد الحئی  مدیر  الحسنات  وبانی جامعۃ الصالحات رامپور، اور مولانا مائل خیر آبادی کی صحبتیں ملیں۔

پٹنہ یونیورسٹی میں جب آپ زیر تعلیم تھے تو وہاں پر قادیانی مبلغین بڑے متحرک تھے، خود آپ کے ایک اہم استاد ڈاکٹر اختر اورینوی  بھی اس فکر سے تعلق رکھتے تھے، لیکن چونکہ  آپ کو اس وقت تک  جماعت اسلامی ہند کی چند عظیم شخصیات کی رہنمائی اور سرپرستی حاصل ہوچکی تھی، جس کی وجہ سے قادیانیت آپ پر اثر انداز نہ ہوسکی، بلکہ آپ اس  زہر کے تریاق بن گئے۔

تحریک اسلامی کی جن شخصیات نے آپ کی فکر پر بڑا گہرا ڈالا، اور آپ کے سر وپا کو تحریک بنادیا، اور دعوتی روح آپ کے دل ودماغ میں پھونک  دی، ان میں  ایک بڑا نام  انیس الدین احمد مرحوم کا ہے  جو بہار کے امیر حلقہ تھے، اور تحریک ودعوت کے میدان میں ایثار وقربانی کی ایک مثال تھے۔ آپ سرکار  میں اکسائز آفیسر کی ڈیوٹی پر فائز تھے،  اچھی کمائی تھی،کثیر الاولاد تھے، باوجود اس کے دعوت وتحریک اور مسلمانان بہار کی خدمت کے لئے آپ نے سرکاری  ملازمت سے استعفی دیا، اور پچاس ساٹھ روپئے ماہوارآمدنی پر قناعت کرتے ہوئے  اپنی خدمات ملت کی بھلائی کے لئے وقف کردیں۔

دوسری شخصیت جس نے آپ کو اس دوران متاثر کیا، اور اسے سنوارنے میں مدد دی، اور آپ کو تحریک اسلامی سے جوڑنے میں اہم کردا ادا کیا ، وہ  مولانا ضیاء الھدی مرحوم کی شخصیت  تھی جو پہلے ایک پوسٹ آفس میں ملازم تھے، لیکن جماعت سے وابستگی ترک نہ کرنے  کی پاداش میں ملازمت سے برخواست کردئے گئے تھے۔ اور انہوں نے طب ہومیوپیتھی کو پیشہ بنا کر خدمت دعوت اور معاش کی راہ تلاش کی تھی۔ کالج کے بعد آپ دو گھنٹے آپ کے مطب میں بیٹھتے، اور اپنی دینی و ادبی ذوق کی سیرابی کرتے۔

تیسری شخصیت جس نے آپ کو متاثر کیا وہ حسنین سید کی تھی، جو مولانا مودودی کے اولین ساتھیوں میں تھے۔ اور علامہ اقبال کی زندگی میں ماہنامہ جوہر کا اقبال نمبر شائع کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔ وہ بھی بڑی مقناطیسی شخصیت کے مالک تھے۔

آپ کو اس دور میں عظیم آباد کی ادبی شخصیات اور انجمنوں سے فیض اٹھانے کا موقعہ ملا، اور آپ نے  پٹنہ میں  حلقہ ادب اسلامی کے قیام کا شرف حاصل کیا تھا۔

آپ کو جماعت اسلامی ہند کی ابتدائی نسل کے لوگوں  میں سے مولانا محمد ابو اللیث اصلاحی ندوی، مولانا سید حامد علی، مولانا سید احمد عروج قادری ، جناب سید حامد حسین، اور جناب افضل حسین جیسی عظیم شخصیات کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ نصیب ہوا۔ ایمرجیسی کے بعد سنہ 1981ء میں آپ مجلس شوری کے رکن منتخب ہوئے۔ اور بعد کے پندرہ بیس سال تک وہ  جماعت میں متحرک رہے۔

آپ نے جماعت سے تنظیمی تعلق کے باوجود بلاتفریق ملت کے تعلیمی و اجتماعی کاموں میں حصہ لیا، اور شہر رانچی کی ایک شناخت بن گئے، جس شہر میں آپ کی زندگی کے آخری ساٹھ سال گذرے،

1982ء میں آپ کو ادب اسلامی ہند کا صدر منتخب کیا گیا، جس دوران آپ کی کارکردگی بہت اچھی رہے، رابطہ ادب اسلامی سے بھی وابستہ رہے۔ اور اس کے مجلہ پیش رفت کو چلانے اور اس کے معیار کو بلند رکھنے کے لئے قابل قدر کاوشیں کیں۔  آپ ادارہ تحقیقات اسلامی علی گڑھ کی ابتدا سے بنیادی رکن رہے۔

سنہ 2000ء کے اوائل میں سچر کمیشن کی رپورٹ کا بڑا چرچا تھا، جس میں وطن عزیز میں مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی بد حالی کا حقیقت پسندی سے پہلی مرتبہ جائزہ لیا گیا تھا۔ اس زمانے میں ڈاکٹر صاحب نے مسلمانان ہند میں تعلیمی ومعاشی بیداری پید ا کرنے، اور اقلیتوں کے لئے  مختص حکومتی بجٹ اور مراعات سے استفادے کے لئے رہنمائی اور گائڈنس پر اپنی توجہات مرکوز کیں۔

اس زمانے میں سچر کمیشن کے تعلق سے آپ کے کئی سارے لکچرس ہوئے، اس سلسلے میں آپ کا ایک اہم لکچر انجمن حامی مسلمین   بھٹکل کی پلاٹینم جوبلی کی تقریبات کی مناسبت سے بھٹکل میں بھی ہوا تھا۔

1995ء میں رانچی میں اپنا ایک ادارہ مرکز ادب وسائنس کے نام سے قائم کیا تھا، جس میں آپ کو اپنے فرزند  طارق سجاد کا ساتھ ملا۔

رانچی میں عموما مسلمان تعلیمی ومعاشی طور پر بہت کمزور چلے آرہے تھے، یہاں پر برطانوی دور سے عیسائی مشنریوں کا دبدبہ تھا۔ اس صورت حال کو دیکھ آپ نے یہاں پر اردو اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔

یہاں پر انجمن ترقی اردو کے سکریٹری کی حیثیت سے ڈاکٹر عبد المغنی مرحوم کی رفاقت میں اردو کی ترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔

مسلم نونہالوں کو عیسائی مشنرنویوں کے اثر وتسلط سے دور رکھنے کے لئے اسلامک ایجوکشنل بورڈ کی بنیاد ڈالی۔ اور تعلیمی میدانوں میں مسلمانوں کے معیار کی بلندی کے لئے ملت اکیڈمی قائم کی۔

میں رانچی میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کے انعقاد میں بھی آپ بہت متحرک رہے۔ مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن ندوی ؒ جیسے اکابر سے بھی آپ کے روابط رہے، تین مرتبہ رانچی میں آپ کی میزبانی کی۔ رابطہ ادب اسلامی کے آغاز میں بھی اس میں شریک رہے۔

مولانا سید محمد ولی رحمانی علیہ الرحمۃ کی فرمائش پر اپنے ٹرسٹ میں  رحمانی 30 سنٹر بھی قائم کیا۔

بنیادی طور پر آپ ایک ادیب اور مصنف تھے۔

اسلام کا روشن مستقبل۔ 

اکیسویں صدی کا چیلنج اور ملی تعلیمی ایجنڈا۔ 

بندہ مومن کا ہاتھ یا آل انڈیا مومن کانفرنس۔ 

تعمیری ادبی تحریکیں۔ 

تنقید و تحریک۔ 

تنقید وتنقیح۔ 

کیا برصغیر کی اردو آبادی عذاب مسلسل کا شکار ہے – 

میر غلام علی عشرت بریلوی۔ 

ہندوستان کا جدید تعلیمی انقلاب اور مسلم اقلیت

وغیرہ کئی اہم تصنیفات ہیں، جو ذہن وفکر کو بالیدگی بخشتی ہیں۔ کئی  ساری کتابیں اور مجلات میں شائع شدہ مضامیں دوبارہ زیورہ طبع سے مزین ہونے کے منتظر ہیں۔

1965ء میں جب رانچی آئے تھے تو یہاں کا ماحول بہار شریف سےمختلف تھا، جہاں  رہائش تھی وہاں  پر  مسلم محلہ کا تصور نہیں تھا، مسلمانوں کے مکانات دور دور واقع تھے،  گھر سے قریب مکتب و مسجد کی سہولت نہیں تھی، لہذا آپ نے اپنے گھر ہی کو تربیت گاہ بنادیاتھا، جہاں دینی اجتماعات ہوتے تھے،  وہ ایک اچھے اور سلجھے ہوئے مقرر  اور  بڑے دانشور تھے، چونکہ آپ زبان وادب کے مانے ہوئے استاد تھے ، وہیں  علم ودانشوری  نے ان کی تقریروں کو بہت سنجیدہ اور باوقار بنادیا تھا۔ آخری دنوں میں وہ اردو میں جمعہ کے خطبات دینے کا اہتمام بھی کرتے تھے۔ اور معاشرے کی اصلاح کی ذمہ داری سے کبھی فارغ نہیں بیٹھتے تھے۔

ڈاکٹر احمد سجاد صاحب کی رحلت صرف   جھاڑکنڈ اور بہار کے  ایک عظیم دانشور و ادیب سے محرومی نہیں ہے، بلکہ یہ پورے ملک کے مسلمانوں کے لئے ایک بڑا ملی خسارہ ہے۔ اب اس پایہ کے ادیب ودانشور   دور  دور تک نظر نہیں آتے۔

یوں تو ڈاکٹر صاحب کی تحریریں پڑھنے کا موقعہ بہت ملا تھا، لیکن  آج سے بیس سال قبل دبی میں آپ سے چند روزہ رفاقت بھی نصیب میں آئی، اس دوران آپ کے مشاہدات پر ایک ویڈیو انٹرویو بھی ریکارڈ کرنے کا موقعہ ملا، یہ ہمارے لئے خوش قسمتی کی بات تھی کہ ادارہ  ادب اسلامی کے تین قائدین یم نسیم اعظمی، ڈاکٹر سید عبد الباری (شبنم سبحانی) سے بھی اسی طرح بے تکلفانہ مشاہدات پر مبنی انٹرویوز ریکارڈ کرنے کا  موقعہ ہمیں نصیب ہوا۔ اس طرح ادارہ سے وابستہ صف اول کے تقریبا سبھی  شعراء کی ریکارڈ شدہ کلام کے نمونے محفوظ کرنے کے مواقع ملے، جو بھٹکلیس ڈاٹ کام www.bhatkallys.com   کے آڈیو اور ویڈیو سیکشن میں محفوظ ہیں،

مرحوم نے اس دنیا میں ایک قدرتی عمر پائی، جس کا ایک  ایک  لمحہ خدا کی امانت سمجھ کر گذاردی۔ اللہ آپ کے درجات بلند کرے۔ اور جو نقوش انہوں نے آ چھوڑے ہیں، ان پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔

2026-04-29

شیئر کریں۔