بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

مرحوم جناب نظام الدین دامدا (بڈور)

سید عبداللہ بافقیہ ندوی

دنیائے فانی کا ایک اصول رب نے بنایا ہے جس جان نے دنیا میں سانس لی اس جان کو مقررہ سانسیں ختم کرکے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے، اس میں انسان نہ ایک سانس زیادہ لے سکتا ہے نہ ایک سانس کم لیے دنیا سے رخصت ہوسکتا ہے۔

کل شام خبر ملی کہ خالو کی طبیعت ہلکی سی بگڑ گئی ہے اور ممبئی ہی کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ زبان ودل رب کے حضور متوجہ ہوئے اور خالو کی جلد مکمل صحتیابی کے لیے دعائیں کی۔

آج علی الصبح بوقت فجر ماموں مولانا سید شاذر یس جے ندوی صاحب کے فون نے دل میں بے چینی پیدا کی، اولاً تو اپنے وطن جانے کی اطلاع دی اس کے بعد خالو محترم جناب نظام الدین دامدا بڈور صاحب کے اس عالم فانی سے رحلت کی بھی خبر دی۔ إنّا للہ لب پر جاری ہوا اور دعائے مغفرت کے ساتھ یہ حديث بھی ذہن میں گردش کرنے لگی *إِنَّ لِله مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطىٰ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ* اللہ جل شانہ کی فیصلہ پر راضی برضا رہ کر ہمیں صبر کرنا چاہیے اور ثواب کی امید بھی رکھنی چاہیے۔

ہمارے بڑے خالو مرحوم جناب نظام الدین دامدا (بڈور) صاحب بڑے نیک اور نہایت سنجیدہ مزاج شخص تھے، ملنساری میں اپنی مثال آپ، ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ سجی رہتی تھی، خوش اخلاقی اور خوش مزاجی آپ کی طبیعت تھی، بڑے خوش اور ہشاش بشاش رہنے والوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا، اپنے چھوٹوں پر شفقت بھی ہمیشہ رہی، جب کوئی کسی میدان میں اترتا تو اس کی بڑی ہمت افزائی فرماتے، دعاؤں سے بھی نوازتے، اپنی طرف سے جتنی خدمات اور کوششیں کرسکتے کرگزرتے۔

مجھ سے جب بھی فون پر بات ہوتی تو گویا محسوس ہوتا وہ ہم سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں باتوں باتوں میں اپنے پیار بھرے الفاظ (بیٹا عبداللہ/ چڈو عبداللہ) کہے بغیر باتیں مکمل نہ ہوتی، کوئی کسی كشمكش سے گزر رہا ہو تو رہبری بھی فرمایا کرتے تھے، تکلیف کے بعد آسانی طے ہے اس کی یقین دہانی کرتے۔ ان کی باتوں سے پست ہمت احباب بھی ہمتوں سے ہمکنار ہوجاتے اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا مقابلوں سے سامنا کرنے کا شوق بڑھتا۔

مرحوم کا شمار اپنے زمانے کے تعلیم یافتہ افراد میں ہوتا تھا، اپنے علم کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس پر صحیح طریقہ پر خود بھی عمل پیرا ہوئے اور دوسروں کو بھی ترغیب دی۔

دورانِ تعلیم عالیہ درجات میں ششماہی کی چھٹیوں کی بات ہے کہ آخری مرتبہ ممبئی آپ کے یہاں جانا ہوا تھا، بڑی محبتوں سے نوازا تھا، بہت ہی اپنائیت کا احساس دیا تھا اور کہا کرتے تھے خوب آگے بڑھنا، کبھی پیچھے نہ ہٹنا، ہوسکتا ہے سخت مراحل کا سامنا کرنا پڑے لیکن کبھی جھجک محسوس نہ کرنا ہمت سے آگے بڑھنا اور کہتے: عبداللہ اللہ نے آپ کا (اس ناچیز کو) انتخاب اہم جگہ پر کیا ہے اسے کبھی ہلکے میں نہ لینا خوب محنت کرنا ایک وقت آئے گا ترقی آپ کے قدم چومے گی اور وقتاً فوقتاً جائزہ بھی لیا کرتے تھے اور اسی کے پیش نظر اہم ہدایات سے بھی نوازتے۔

میرے لیے بڑی فخر کی بات ہے جب تک میری مستقل سکونت بھٹکل میں تھی تو اپنا کچھ کام دام کے لیے بخوشی اپنا بچہ ہی سمجھ کر یاد کرتے اور مجھے بھی بڑی خوشی محسوس ہوتی، گزشتہ سال چھٹیوں میں جب بھٹکل جانا ہوا تھا تو خالہ اور خالو کا بھی اتفاقاً بھٹکل آنا ہوا تو بار بار ان کے یہاں جانا ہوا تو بڑی محبتوں سے نوازا۔

 اللہ کی آزمائشوں پر صبر کے بعد اللہ کے طرف سے آنے والی آسانی پر بڑا ہی یقین تھا۔ آپ ہم سبھوں کے لیے ایک روشن چراغ کے مانند تھے۔

اس عمر میں بھی اپنے آپ کو بجائے خالی رکھنے کے اپنے کاموں میں مصروف رکھنا آپ کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھا، آخری دن بھی آفس جاکر اپنا کام مکمل کر آئے تھے۔ اسی دن صحت بگڑی اور وقت مقررہ مکمل کرکے رب کے حضور حاضر ہوئے۔

رب العالمين سے دست بدعا ہوں کہ اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، صدیقین، شہداء کے ساتھ حشر فرمائے اور جملہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

شیئر کریں۔