عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں عدم استحکام اور جیو پولیٹیکل تنازعات کے باعث ہندوستان میں یکم مئی سے ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا قوی امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے گیس کی بکنگ اور ڈیلیوری کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے نئے اور سخت قوانین نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا براہ راست اثر کروڑوں صارفین پر پڑے گا۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہری علاقوں میں اب صارفین کو نئے سلنڈر کی بکنگ کے لیے اکیس دن کے بجائے پچیس دن کا انتظار کرنا ہوگا۔ دیہی علاقوں میں یہ وقفہ بڑھ کر پینتالیس دن تک ہو سکتا ہے۔ ڈیلیوری کے نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے او ٹی پی پر مبنی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق فی الحال اٹھانوے فیصد بکنگ آن لائن ہو رہی ہے اور چورانوے فیصد سلنڈرز کی ڈیلیوری او ٹی پی کے ذریعے مکمل کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس عمل کو سو فیصد تک پہنچانے اور قوانین کو مزید سخت کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مارچ کے مہینے سے اب تک چودہ اعشاریہ دو کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں ساٹھ روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب کمرشل صارفین پر مہنگائی کا بوجھ زیادہ پڑا ہے۔ انیس کلوگرام کے کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں محض ایک ماہ کے دوران تین بار ردوبدل کیا گیا ہے اور صرف اپریل دو ہزار چھبیس میں میٹرو شہروں میں اس کی قیمت میں ایک سو چھیانوے روپے کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہوا ہے جس کا سیدھا اثر مقامی گیس مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔ قیمتوں پر نظر ثانی یکم مئی کی صبح کی جائے گی۔
ان نئی تبدیلیوں کے تحت پردھان منتری اجولا یوجنا کے مستفیدین کے لیے آدھار پر مبنی ای کے وائی سی لازمی کر دی گئی ہے۔ جن صارفین نے ابھی تک یہ عمل مکمل نہیں کیا، انہیں ہر مالی سال میں کم از کم ایک بار، خاص طور پر ساتویں ریفل کے بعد اپنی تصدیق کروانی ہوگی تاکہ سبسڈی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے۔ تاہم عام صارفین جو پہلے ہی ای کے وائی سی کروا چکے ہیں، انہیں دوبارہ اس عمل سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سبسڈی والے سلنڈرز کی بلیک مارکیٹنگ اور خرد برد کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے ان اقدامات سے سسٹم میں شفافیت آئے گی۔
ایک اور اہم پیش رفت پائپڈ نیچرل گیس یعنی پی این جی کے استعمال کو فروغ دینے کی حکومتی پالیسی ہے۔ نئے ضوابط کے تحت جن علاقوں یا گھرانوں میں پی این جی کنکشن کی سہولت موجود ہے، انہیں لازمی طور پر اس پر منتقل ہونا ہوگا۔ اگر کوئی صارف سہولت ہونے کے باوجود تین ماہ کے اندر پی این جی پر منتقل نہیں ہوتا تو اس کے ایل پی جی سلنڈر کی فراہمی منقطع کی جا سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے میں ہونے والی یہ مسلسل تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکومت سبسڈی کے نظام کو زیادہ ٹارگٹڈ اور جدید بنانا چاہتی ہے۔ گیس کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے کنکشنز کا ڈیٹا اپڈیٹ رکھیں اور بلاتعطل فراہمی کے لیے نئے ڈیلیوری قوانین پر سختی سے عمل کریں۔




