اڑیسہ کے کیونجھر ضلع میں ایک انتہائی دلخراش اور حیران کن واقعہ پیش آیا ہے جس نے بینکنگ نظام کی بے حسی اور غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک پچاس سالہ قبائلی شخص بینک عملے کی جانب سے بار بار اکاؤنٹ ہولڈر کو ساتھ لانے کے مطالبے پر اپنی مردہ بہن کی قبر کھود کر اس کی ہڈیاں برانچ میں لے آیا۔ یہ واقعہ پٹنا بلاک کے دیانالی گاؤں کے رہائشی جیتو منڈا کے ساتھ اڑیسہ گرامین بینک کی مالیپوسی برانچ میں پیش آیا، جہاں وہ اپنی متوفی بڑی بہن کے اکاؤنٹ سے بیس ہزار روپے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
جیتو منڈا کی چھپن سالہ بہن کلرا منڈا کا رواں برس چھبیس جنوری کو انتقال ہو گیا تھا۔ بہن کی موت کے بعد جیتو ان کے اکاؤنٹ میں موجود رقم نکالنے کے لیے کئی بار بینک کے چکر کاٹ چکا تھا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ بینک کا عملہ مسلسل اس کی بات کو نظر انداز کر رہا تھا اور اسے حکم دیا جا رہا تھا کہ پیسے نکالنے کے لیے ہر صورت اکاؤنٹ ہولڈر کو پیش کیا جائے۔ جیتو کے مطابق اس نے بارہا بتایا کہ اس کی بہن فوت ہو چکی ہے لیکن عملے نے اس کی ایک نہ سنی۔ اسی ضد اور غصے میں آ کر اس نے اپنی بہن کی قبر کھودی اور موت کے ثبوت کے طور پر اس کی ہڈیاں لے کر بینک پہنچ گیا۔
اطلاع ملنے پر پٹنا پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر کرن پرساد ساہو فوری طور پر بینک پہنچے اور صورتحال کو سنبھالا۔ پولیس حکام کے مطابق جیتو منڈا ایک ان پڑھ قبائلی شخص ہے جو بینکنگ کے پیچیدہ قواعد اور نامزد وارث کے طریقہ کار سے بالکل ناواقف ہے۔ یہ بینک عملے کی سنگین غفلت تھی کہ انہوں نے ایک ان پڑھ شخص کو قانونی طریقہ کار سمجھانے کے بجائے ناممکن مطالبہ کر کے ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا۔ بتایا گیا ہے کہ کلرا منڈا کے اکاؤنٹ میں درج نامینی بھی وفات پا چکا تھا، جس کی وجہ سے جیتو ہی اس رقم کا واحد قانونی دعویدار تھا۔
اس لرزہ خیز واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ بھی حرکت میں آ گئی ہے۔ بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر مناس دندپت کا کہنا ہے کہ انہیں اس معاملے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور اب وہ خود اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کروا رہے ہیں۔ پولیس نے فوری مداخلت کر کے جیتو منڈا کو تسلی دی اور اپنی موجودگی میں ہڈیوں کو دوبارہ قبرستان میں دفن کروایا۔
مقامی انتظامیہ نے اڑیسہ گرامین بینک کی متعلقہ برانچ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ضروری کاغذی کارروائی کو فوری مکمل کر کے جیتو منڈا کو اس کی رقم فراہم کرے۔ اس واقعے نے ملک کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں بینکوں کے غیر پیشہ ورانہ رویے اور عوام کو درپیش شدید مشکلات پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔




