ہندوستان میں سوشل میڈیا اور آن لائن مواد پر حکومتی گرفت مزید سخت ہو گئی ہے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کی جانب سے انٹرنیٹ پر مواد کو بلاک کرنے کے احکامات میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سال دو ہزار پچیس کے اختتام تک یہ تعداد چوبیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جو کہ محض دو سال قبل کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ اس بے مثال اضافے کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا پر ڈیپ فیک ویڈیوز کا پھیلاؤ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ قابل اعتراض مواد کو قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار اور متعلقہ حکام کے مطابق سال دو ہزار تیئیس میں اوسطاً چھ ہزار بلاکنگ احکامات جاری کیے جاتے تھے، جو دو ہزار چوبیس میں بڑھ کر بارہ ہزار چھ سو اور دو ہزار پچیس میں چوبیس ہزار تین سو تک پہنچ گئے۔ ان کارروائیوں کا سب سے بڑا ہدف مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس رہا ہے جس پر کل بلاکنگ احکامات کا ساٹھ فیصد اطلاق ہوا۔ اس کے علاوہ فیس بک اور انسٹاگرام کے پچیس فیصد جبکہ یوٹیوب کے پانچ فیصد لنکس کو بھی ہٹانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ ان میں سے نصف سے زائد درخواستیں براہ راست وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے نوڈل افسران کی جانب سے موصول ہوئی تھیں۔ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے بھی فرضی پوسٹس کے خلاف شکایات کا انبار لگا ہوا ہے۔
آن لائن سنسر شپ کا یہ پورا عمل انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ دو ہزار کی دفعہ انہتر اے کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت ملک کی خودمختاری، سالمیت، دفاع، سلامتی، غیر ملکی تعلقات اور امن عامہ کے تحفظ کی بنیاد پر کسی بھی مواد کو ہٹانے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کارروائی کے لیے باقاعدہ ایک بلاکنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وزارت قانون، داخلہ، اطلاعات و نشریات اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران شامل ہوتے ہیں۔ اس کمیٹی کے اجلاسوں میں میٹا اور ایکس جیسی عالمی کمپنیوں کے نمائندوں کو بھی اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ حتمی منظوری الیکٹرانکس اور آئی ٹی سیکریٹری کے دستخط سے دی جاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں ڈیجیٹل خطرات کے پیش نظر اس کمیٹی کی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ پہلے جہاں ہفتے میں بمشکل ایک اجلاس ہوتا تھا، اب ہفتے میں کئی بار ورچوئل میٹنگز منعقد کی جا رہی ہیں۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے موجود شق کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے، جس کے تحت کمیٹی کے اجلاس کے بغیر ہی فوری طور پر مواد بلاک کر دیا جاتا ہے اور اڑتالیس گھنٹے کے اندر اس کی منظوری لی جاتی ہے۔ انٹرنیٹ پر پابندیوں اور مواد کو ہٹانے کے اس بڑھتے ہوئے رجحان نے آزادی اظہار رائے اور حکومتی شفافیت پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ بلاک کیے گئے یو آر ایلز کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش نہیں کی جاتیں۔
اس سخت ڈیجیٹل نگرانی کے اگلے مرحلے میں حکومت اہم انتظامی تبدیلیاں لانے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور وزارت اطلاعات و نشریات کو بھی براہ راست دفعہ انہتر اے کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاکنگ کے احکامات جاری کرنے کا اختیار دینے پر سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت کے علاوہ دیگر وزارتیں بھی آزادانہ طور پر مواد ہٹانے کی مجاز ہوں گی، جس سے آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل اسپیس کے اندر حکومتی کنٹرول میں مزید وسعت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔




