مغربی بنگال ایس آئی آر تنازعہ: ٹریبونل نے دوسرے مرحلے کے لیے 1468 درخواستیں منظور

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ سے محض چند گھنٹے قبل ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ انتخابی ٹریبونل نے 1468 ایسے ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جن کے نام ابتدائی طور پر ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ٹریبونل نے مجموعی طور پر 1474 درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کے بعد 1468 افراد کے نام دوبارہ فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ محض 6 درخواستوں کو مسترد کیا گیا ہے۔

ریاست میں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ بدھ 29 اپریل کو شیڈول ہے جس میں 7 اضلاع کی 142 اسمبلی نشستوں پر امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ اس مرحلے کی سب سے اہم کڑی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی روایتی نشست بھوانی پور ہے، جہاں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ٹریبونل کے اس فیصلے کے بعد ان ووٹرز کے نام اب سپلیمنٹری ووٹر لسٹ میں شامل کر دیے جائیں گے، جس سے وہ کل ہونے والی پولنگ میں اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پہلے مرحلے کے مقابلے میں اس بار ٹریبونل کی جانب سے درخواستوں کی منظوری کی شرح انتہائی زیادہ رہی ہے۔ 23 اپریل کو ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخاب میں 657 درخواستوں میں سے صرف 139 ناموں کو ہی بحال کیا گیا تھا، جبکہ ایک بڑی تعداد کو تکنیکی بنیادوں پر غلط قرار دیا گیا تھا۔ اس بار کے اعداد و شمار میں دلچسپ بات یہ ہے کہ غلط درخواستوں کی تعداد صفر رہی، جو کہ انتخابی عمل میں شفافیت اور عوامی آگاہی کی نشاندہی کرتی ہے۔

مغربی بنگال میں ایس آئی آر (SIR) کا عمل طویل عرصے سے شدید سیاسی اور سماجی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عدالتی تحقیقاتی عمل کے دوران ریاست بھر میں تقریباً 12 لاکھ 87 ہزار سے زائد نام ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے تھے۔ مجموعی طور پر ریاست میں تقریباً 90 لاکھ ووٹرز کو فہرست سے باہر کیا گیا تھا جن میں سے ایک بڑی تعداد کو غیر حاضر یا فوت شدہ قرار دیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان متاثرہ ووٹرز میں ایک بڑی تعداد اقلیتی برادری اور دلت طبقے سے تعلق رکھتی ہے، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی تھی۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں تشکیل دیے گئے ٹریبونل نے اب ان شکایات کا ازالہ شروع کر دیا ہے۔

مغربی بنگال کے ان 7 اضلاع میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جہاں کل ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ووٹر لسٹوں میں ان نئے ناموں کی شمولیت سے مقامی سطح پر انتخابی نتائج پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایک ایک ووٹ کی اہمیت کے پیش نظر ٹریبونل کا یہ فیصلہ جمہوری عمل کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جن ووٹرز کے نام سپلیمنٹری لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں، انہیں پولنگ اسٹیشنز پر کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

شیئر کریں۔