مساجد میں خواتین کے داخلے پر پابندی نہیں لیکن… مسلم پرسنل لاء بورڈ

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے جمعرات کے روز سپریم کورٹ کو بتایا کہ اسلام میں خواتین کو مسجد میں آکر نماز ادا کرنے سے کوئی روک نہیں ہے، تاہم یہ "زیادہ بہتر” سمجھا جاتا ہے کہ وہ گھروں میں نماز ادا کریں۔ مساجد میں خواتین کے داخلے سے متعلق دائر درخواستوں کو سبریمالا مندر کیس کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

اس معاملے کی سماعت نو رکنی بینچ نے کی، جس کی سربراہی چیف جسٹس سوریہ کانت کر رہے تھے۔ بینچ میں جسٹس آر مادھون، جسٹس پرسنا بی ورالے، جسٹس آگسٹن جارج مسیح، جسٹس اروند کمار، جسٹس احسان الدین امان اللہ، جسٹس ایم ایم سندریش، جسٹس بی وی ناگارتنا اور جسٹس جوئے مالیا باگچی شامل تھے۔

سماعت کے دوران اے آئی ایم پی ایل بی کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل ایم آر شمشاد نے مؤقف اختیار کیا کہ خواتین کو مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ کچھ ضوابط کی پابندی کریں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسلام کے تمام مکاتب فکر میں اس بات پر اتفاق ہے کہ خواتین کے مسجد میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے، تاہم ان کے لیے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا لازمی نہیں۔

اس موقع پر جسٹس احسان الدین امان اللہ نے کہا کہ یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ یہ روایت عہدِ نبویؐ سے ہی جاری ہے اور اس پر کوئی اختلاف نہیں۔ ایم آر شمشاد نے کہا کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے خود فرمایا کہ خواتین کو مسجد آنے سے نہ روکا جائے، اور اس حوالے سے مکمل وضاحت موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مردوں کے لیے جماعت میں نماز ادا کرنا لازمی ہے، جبکہ خواتین کے لیے یہ فرض نہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ خواتین کے لیے گھر میں نماز ادا کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے اور اس پر انہیں وہی اجر ملتا ہے، تاہم اگر وہ مسجد جانا چاہیں تو انہیں اجازت ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وہ جماعت کا حصہ نہیں بن سکتیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ وہ جماعت میں شامل ہو سکتی ہیں۔ جسٹس ناگارتنا کے سوال پر انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے مسجد میں جماعت میں شرکت "ترجیحی” نہیں ہے۔

جسٹس امان اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر سب گھر سے نکل جائیں تو بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ سماعت کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ عدالتوں کی جانب سے "اہم مذہبی عمل” کے اصول کا اطلاق اسلام کے معاملے میں درست طریقے سے نہیں کیا گیا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام ایک مفصل اور تحریری مذہب ہے جس میں حلال و حرام، فرض، مستحب اور ممنوع امور کی واضح درجہ بندی موجود ہے۔ عدالت میں اس معاملے کی مزید سماعت آئندہ ہفتے جاری رہے گی۔

شیئر کریں۔