غازی پور درندگی کیس پر راہل-پرینکا کا بڑا حملہ، یوگی اور مودی حکومت سے سخت سوالات

اتر پردیش کے غازی پور میں وشوکرما برادری سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ مبینہ درندگی اور بہیمانہ قتل کے واقعہ نے ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس سانحہ کے بعد سیاسی ماحول بھی گرم ہوگیا ہے اور کانگریس نے مرکزی مودی حکومت اور اتر پردیش کی یوگی حکومت پر شدید حملہ بول دیا ہے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اس واقعہ کو صرف ایک مجرمانہ واردات نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان قرار دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہاتھرس، اناؤ، کٹھوعہ اور اب غازی پور جیسے واقعات ایک ہی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں متاثرہ خاندان انصاف کے لیے در در بھٹکتا ہے جبکہ مجرم خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ غازی پور واقعہ میں متاثرہ خاندان کو ایف آئی آر درج کرانے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ انہیں دھمکیاں دی گئیں اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جس ریاست میں والدین کو اپنی بیٹی کے لیے انصاف مانگنے کے لیے بھیک مانگنی پڑے، وہاں حکومت کے اخلاقی جواز پر سوال اٹھتا ہے۔

کانگریس رہنما نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے براہ راست سوال کرتے ہوئے کہا کہ آخر ان کے دور حکومت میں خواتین اتنی غیر محفوظ کیوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے افراد کی خاموشی مجرموں کے حوصلے بلند کرتی ہے اور یہی خاموشی سماج کے لیے خطرناک پیغام بن رہی ہے۔

راہل گاندھی نے سخت لہجے میں کہا کہ انصاف مانگا نہیں جاتا بلکہ چھینا جاتا ہے، اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں لاپروائی برتنے والے پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور پورے معاملہ کی اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے۔

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی اس معاملہ پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں خواتین کے خلاف جرائم مسلسل بڑھ رہے ہیں اور ہر بار متاثرہ خاندان کو ہی مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق ریاست میں ایسا غیر اعلانیہ نظام قائم ہوچکا ہے جہاں طاقتور طبقہ قانون سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ خواتین کے تحفظ پر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں اناؤ، ہاتھرس، پریاگ راج اور غازی پور جیسے واقعات حکومت کے دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی ہر بار متاثرہ کے بجائے طاقتور حلقوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔

غازی پور واقعہ نے ایک بار پھر اتر پردیش میں خواتین کی سلامتی، پولیس نظام اور امن و امان کے دعووں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے بڑھتے دباؤ کے بعد یہ معاملہ آنے والے دنوں میں ریاستی سیاست کا بڑا موضوع بن سکتا ہے۔

شیئر کریں۔