ہندوستان میں موسم مزید بے قابو ہونے کا امکان,اگلے 4 دن شدید گرم لہر کا انتباہ

شمال مغربی اور وسطی ہندوستان اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ تین سے چار دن تک گرم لہر مزید تیز ہونے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ دہلی، این سی آر، ہریانہ، راجستھان، اتر پردیش اور دیگر میدانی علاقوں میں سورج کی تپش نے معمولات زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں، جہاں صبح کے اوقات کے بعد گھروں سے نکلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔

ہندوستانی محکمہ موسمیات کے مطابق ہریانہ، چنڈی گڑھ، دہلی، راجستھان، مغربی اتر پردیش اور مغربی بنگال کے گنگا کے میدانی علاقوں میں کئی دنوں سے ہیٹ ویو جاری ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، خشک ہواؤں اور آلودگی نے شہری علاقوں میں صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔ خاص طور پر دہلی این سی آر میں فضائی آلودگی اور گرمی کے امتزاج نے عوام کے لیے دوہرا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

دوسری جانب جموں و کشمیر، اتراکھنڈ، آسام، اروناچل پردیش، منی پور، کرناٹک اور مہاراشٹر کے بعض حصوں میں بارش اور تیز ہواؤں کے باعث موسم نسبتاً خوشگوار رہا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بعض مقامات پر برفباری بھی ریکارڈ کی گئی، جس سے وہاں درجہ حرارت میں کمی آئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ موسمی نظام ال نینو 2026 کے وسط میں دوبارہ شدت کے ساتھ سامنے آ سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق مئی سے جولائی کے درمیان بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافے کے آثار نمایاں ہیں، جو عالمی موسم پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے معمولات بدل جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی خطوں میں خشک سالی، شدید گرمی یا غیر معمولی بارشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سابقہ ال نینو اثرات کے باعث 2023 دنیا کا دوسرا گرم ترین اور 2024 اب تک کا گرم ترین سال قرار دیا گیا تھا۔

اتر پردیش میں بھی شدید گرمی نے زندگی مفلوج کر دی ہے۔ پریاگ راج، وارانسی، ہردوئی، آگرہ، میرٹھ، علی گڑھ اور شاہجہاں پور سمیت متعدد شہروں میں دوپہر کے وقت سڑکیں سنسان دکھائی دیں۔ پریاگ راج میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ باندہ اور ہمیر پور میں پارہ 44 ڈگری سے اوپر رہا۔

طبی ماہرین نے عوام کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، پانی زیادہ پینے، ہلکے کپڑے پہننے اور بزرگوں و بچوں کا خصوصی خیال رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرمی کی یہ شدت برقرار رہی تو اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے مریضوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور ال نینو کے ممکنہ اثرات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا خصوصاً ہندوستان کو شدید موسمی چیلنجز کا سامنا ہے، اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں۔