عام آدمی پارٹی میں سامنے آنے والی بڑی اندرونی بغاوت کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کے لیے وقت طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھگونت مان اپنی جماعت کے کئی راجیہ سبھا اراکین کے پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے پر شدید ناراض ہیں اور وہ اس معاملے پر صدر جمہوریہ کے سامنے اپنا مؤقف رکھنا چاہتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ بھگونت مان پنجاب کے عام آدمی پارٹی اراکین اسمبلی کے وفد کے ساتھ صدر جمہوریہ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ اس ملاقات میں پنجاب سے منتخب راجیہ سبھا اراکین کو واپس بلانے یعنی ریکال کرنے کے معاملے پر قانونی اور آئینی نکات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ بھگونت مان کا موقف ہے کہ پارٹی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اراکین نے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
عام آدمی پارٹی میں اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب راگھو چڈھا، اشوک متل اور سندیپ پاٹھک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا۔ ان رہنماؤں نے جمعہ کے روز باضابطہ استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان کیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔
بعد ازاں یہ رہنما بی جے پی دفتر پہنچے جہاں پارٹی قیادت نے ان کا استقبال کیا اور باقاعدہ رکنیت دلائی۔ اسی موقع پر مزید چار راجیہ سبھا اراکین ہربھجن سنگھ، سواتی مالیوال، وکرم ساہنی اور راجندر گپتا کے نام بھی سامنے آئے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ بھی عآپ چھوڑ چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اس پیش رفت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پارٹی چھوڑنے والوں اور انہیں شامل کرنے والوں دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کسی بھی فرد سے بڑی ہوتی ہے اور جو لوگ جماعت چھوڑ کر گئے ہیں وہ پنجاب کے عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتے۔
بھگونت مان نے مزید کہا کہ پنجاب کے لوگ محبت کرنے والے ضرور ہیں، لیکن غداری کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔ ان کے مطابق جن افراد کو عوامی جدوجہد کے بغیر ایوان بالا کی نشستیں ملیں، انہوں نے سیاسی وفاداری نبھانے کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔
اس سیاسی بحران نے پنجاب کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگر عام آدمی پارٹی کے اندر مزید اختلافات بڑھے تو اس کے اثرات نہ صرف پنجاب حکومت بلکہ قومی سطح پر اپوزیشن سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی اس پیش رفت کو اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
آنے والے دنوں میں صدر جمہوریہ سے ممکنہ ملاقات اور ریکال کے مطالبے پر پیش رفت اس معاملے کو مزید اہم بنا سکتی ہے، جبکہ پنجاب کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔



