ناگپور میں واقع راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے صدر دفتر کو فراہم کی جانے والی سرکاری سکیورٹی کے خلاف بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں مفاد عامہ کی ایک عرضداشت دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اور تنظیم کے ہیڈکوارٹر کو دی جانے والی زیڈ پلس وی وی آئی پی سکیورٹی کی تمام فیس متعلقہ تنظیم سے وصول کی جائے۔
یہ عرضداشت سماجی کارکن للن کشور سنگھ کی جانب سے ایڈوکیٹ اشون انگولے کے ذریعے داخل کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جسٹس انل کلور اور جسٹس راج وکوڑے پر مشتمل بنچ اس معاملے کی سماعت آئندہ پیر کو کرے گی، جس پر سیاسی اور قانونی حلقوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مرکزی حکومت اور متعلقہ محکمے ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ایک غیر رجسٹرڈ تنظیم کو اعلیٰ ترین سطح کی سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں، جو عوامی وسائل کے استعمال سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی فرد یا ادارے کو خصوصی سکیورٹی دی جاتی ہے تو اس کا مالی بوجھ عوام پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔
پٹیشن میں سپریم کورٹ کے 27 فروری 2023 کے ایک فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں صنعت کار مکیش امبانی کی سکیورٹی کے معاملے پر واضح کیا گیا تھا کہ مخصوص حالات میں سکیورٹی فراہم کی جا سکتی ہے، تاہم اس کا خرچ متعلقہ شخص یا ادارے کو برداشت کرنا ہوگا۔ درخواست گزار نے اسی اصول کو موجودہ معاملے میں بھی لاگو کرنے کی اپیل کی ہے۔
عرضداشت میں مرکزی حکومت، مرکزی صنعتی سکیورٹی فورس اور مہاراشٹر حکومت کے محکمہ خزانہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ فوری خط و کتابت کے ذریعے اس معاملے پر فیصلہ کریں اور عوامی خزانے پر اضافی بوجھ روکا جائے۔
درخواست میں تین اہم مطالبات شامل ہیں، جن میں موہن بھاگوت اور آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کی سکیورٹی لاگت کی وصولی، ٹیکس دہندگان کے پیسے کے ضیاع کو روکنا اور اس رقم کو سرکاری خزانے میں جمع کرانا شامل ہے۔
واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اکثر آر ایس ایس کے نظریاتی و سیاسی دائرے سے جڑا ہوا سمجھا جاتا ہے، اور موجودہ سیاسی ماحول میں اس عرضداشت کو ایک اہم مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت کا فیصلہ نہ صرف اس کیس بلکہ مستقبل میں خصوصی سکیورٹی سے متعلق دیگر معاملات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔



