تمل ناڈو کے ضلع ویرودھونگر میں ایک پٹاخہ فیکٹری میں ہولناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ اتوار کی دوپہر کٹونار پٹی علاقے میں واقع ایک نجی پٹاخہ سازی یونٹ میں پیش آیا، جہاں اچانک زوردار دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز تقریباً 10 کلومیٹر دور تک سنی گئی، جبکہ اطراف کے علاقوں میں زمین لرزنے جیسی کیفیت محسوس کی گئی۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی لوگ بڑی تعداد میں جائے حادثہ کی طرف پہنچ گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فیکٹری کے اندر موجود پٹاخے یکے بعد دیگرے پھٹتے رہے، جس کے باعث آگ تیزی سے پھیل گئی۔ متعدد مزدور اندر ہی پھنس گئے اور کئی افراد جھلسنے یا ملبے تلے دبنے کا شکار ہوئے۔ حادثے کے بعد فائر اینڈ ریسکیو سروسز کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کے ساتھ ساتھ امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ بعض افراد ابھی تک لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
ابتدائی جانچ میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ فیکٹری میں موجود آتش گیر مواد کے اچانک پھٹنے سے ہوا، تاہم اصل وجہ جاننے کے لیے باضابطہ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام یہ بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا فیکٹری میں حفاظتی اصولوں، لائسنس شرائط اور ذخیرہ اندوزی کے ضابطوں کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔
ویرودھونگر اور اس کے اطراف کے علاقے پٹاخہ صنعت کے لیے مشہور مانے جاتے ہیں، لیکن ماضی میں بھی یہاں اس نوعیت کے کئی مہلک حادثات پیش آ چکے ہیں۔ ہر حادثے کے بعد حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر بار بار ایسے سانحات انتظامی غفلت پر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور حکام نے کہا ہے کہ مکمل معلومات امدادی کام مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائیں گی۔ مقامی آبادی میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کے بارے میں بے چینی سے معلومات کے منتظر ہیں۔




