سی پی آئی رہنما کا الیکشن کمیشن کو خط، مودی پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام

سی پی آئی کے راجیہ سبھا رکن سندوش کمار نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ایک اہم خط ارسال کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرے اور ضروری کارروائی انجام دے۔ یہ خط 19 اپریل کو لکھا گیا، جس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کا حالیہ قوم سے خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا جب پانچ ریاستوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔

خط میں الزام لگایا گیا کہ وزیر اعظم کا خطاب سیاسی نوعیت کا تھا، جس میں جانبدارانہ انداز اپنایا گیا اور منتخب حقائق پیش کیے گئے۔ سی پی آئی رہنما کے مطابق اس تقریر کا مقصد ایک ایسے معاملے پر عوامی رائے کو متاثر کرنا تھا، جو اس وقت ملک میں شدید سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ماحول میں اس نوعیت کے بیانات غیر جانبدارانہ فضا کو متاثر کر سکتے ہیں۔

سندوش کمار نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ وزیر اعظم کی تقریر کو دوردرشن اور سنسد ٹی وی جیسے سرکاری نشریاتی پلیٹ فارمز پر نشر کیا گیا۔ ان کے مطابق عوامی خزانے سے چلنے والے اداروں کو کسی سیاسی خطاب کے لیے استعمال کرنا انتخابی ضابطہ اخلاق کے دوران سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں مواقع کے اصول کو نقصان پہنچتا ہے۔

اپوزیشن رہنما نے اپنے خط میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری نوٹس لے، آزادانہ تحقیقات شروع کرے اور جوابدہی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کی گئی تو الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں اور عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 18 اپریل کو قوم کے نام تقریباً 30 منٹ خطاب کیا تھا۔ اس خطاب میں انہوں نے خواتین ریزرویشن کے موضوع پر گفتگو کی اور ان سیاسی جماعتوں کو خواتین مخالف قرار دیا جو اس قانون کی مخالفت کر رہی ہیں۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی موسم میں ایسے تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب خواتین ریزرویشن، سرکاری وسائل کے استعمال اور ضابطہ اخلاق جیسے حساس موضوعات براہ راست سیاست کے مرکز میں ہوں۔ آنے والے دنوں میں الیکشن کمیشن کا ردعمل اس معاملے میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں۔