بنگلورو: داونگیرے جنوبی ضمنی انتخاب کے بعد کانگریس میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں عبدالجبار اور نصیر احمد کے خلاف کی گئی کارروائی پر نہ صرف علماء بلکہ خود کانگریس کے سینئر قائدین نے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پارٹی نے 14 اپریل کو ایم ایل سی نصیر احمد کو وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جبکہ 15 اپریل کو عبدالجبار کو مبینہ ’’پارٹی مخالف سرگرمیوں‘‘ کے الزام میں بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا گیا۔ عبدالجبار کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے ریاستی صدر بھی تھے۔
یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب کانگریس کے کچھ رہنماؤں، جن میں ایم ایل اے رضوان ارشد اور سلیم احمد شامل ہیں، نے داونگیرے جنوبی ضمنی انتخاب کے بعد پریس کانفرنس میں بعض لیڈروں پر پارٹی امیدوار کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
تاہم اس معاملے پر کانگریس کے اندر ہی اختلافی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ سینئر لیڈران جیسے ستیش جارکی ہولی اور بی کے ہری پرساد نے کھل کر کہا کہ پارٹی نے اس معاملے کو مناسب طریقے سے نہیں سنبھالا اور اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
وزیر ستیش جارکی ہولی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار سے بات کی ہے تاکہ یہ تاثر ختم کیا جا سکے کہ کانگریس نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے عبدالجبار کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔ جارکی ہولی کے مطابق شیوکمار نے یقین دلایا ہے کہ جبار کو نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی جائے گی اور معاملہ اعلیٰ قیادت کے سامنے رکھا جائے گا۔
دوسری جانب سینئر لیڈر بی کے ہری پرساد نے واضح طور پر کہا کہ یہ کارروائی مناسب طریقہ کار کے بغیر کی گئی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پارٹی مخالف سرگرمیوں کے معاملات کو ریاستی تادیبی کمیٹی کے حوالے کیا جانا چاہیے تھا، جس کی سربراہی سابق مرکزی وزیر رحمن خان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کرناٹک یونٹ کو طے شدہ اصولوں پر عمل کرنا چاہیے تھا۔
ہری پرساد نے وزیر بی زیڈ ضمیر احمد خان کے استعفے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بھی افواہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا سے وضاحت جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
ادھر کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار نے کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ہائی کمان کی ہدایت پر لیا گیا ہے اور اس میں کوئی ذاتی عنصر شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس تمام طبقات، خصوصاً اقلیتوں، درج فہرست ذاتوں، قبائل اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے پرعزم ہے۔
اس کے باوجود پارٹی کے اندر بے چینی برقرار ہے۔ سینئر ایم ایل اے کے این راجنا نے یہاں تک کہا کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا ’’بے بس‘‘ دکھائی دے رہے ہیں اور انہیں مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ماضی میں اسی نوعیت کے معاملات میں دیگر لیڈروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔




