بنگلورو(فکروخبرنیوز) کرناٹک میں مسلم رہنماؤں کے خلاف کانگریس کی مبینہ کارروائیوں پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی صدر مفتی افتخار احمد قاسمی نے کہا ہے کہ ایک خاندان کی خاطر پوری برادری کو ناراض کرنا مناسب نہیں، اور اس طرح کے فیصلوں سے مسلمانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
بنگلورو پریس کلب میں علماء کرناٹک کی جانب سے منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ داونگیرے جنوبی اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کے دوران پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزامات کی بنیاد پر مسلم رہنماؤں کے خلاف قواعد کے برخلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی تادیبی کارروائی سے پہلے شوکاز نوٹس جاری کرنا اور وضاحت طلب کرنا ضروری ہوتا ہے، جو اس معاملے میں نہیں کیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ عبدالجبار پر دباؤ ڈال کر ان سے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبہ کے ریاستی صدر کے عہدے سے استعفیٰ لیا گیا اور بعد میں انہیں پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے بھی معطل کر دیا گیا۔ اسی طرح نصیر احمد، جنہیں باگلکوٹ ضمنی انتخاب کی ذمہ داری دی گئی تھی، کو بعد ازاں وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ اس کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔
مفتی افتخار احمد قاسمی نے سوال اٹھایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں شیموگہ میں بی جے پی امیدوار کے حق میں مہم چلانے کے باوجود شامنور شیوا شنکرپا کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اگر وہ عمل پارٹی مخالف نہیں تھا تو دیگر رہنماؤں کے خلاف کارروائی کیوں کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بھی داونگیرے جنوبی حلقہ سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، مگر اسے نظرانداز کر دیا گیا۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں بھی علماء اور پارٹی کے ذمہ داران نے مسلم امیدوار کے لیے درخواست کی، لیکن اس بار بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا، جبکہ بعض دیگر مقامات پر خاندانی بنیادوں پر ٹکٹ دیے گئے۔
پریس کانفرنس میں شریک دیگر علماء نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا۔ مولانا قاری ذوالفقار احمد نوری نے کہا کہ پارٹی قیادت نے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلمانوں میں بڑھتی ناراضگی کانگریس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
مولانا زین العابدین نے کہا کہ اگر کانگریس نے اقلیتوں کے ساتھ اپنے رویے میں بہتری نہ لائی تو اس کے اثرات کرناٹک میں بھی دیگر ریاستوں کی طرح نمایاں ہو سکتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں مولانا سید شبیر احمد ندوی، مولانا سید عاصم عبداللہ سمیت متعدد علماء اور سماجی شخصیات موجود تھیں، جنہوں نے قیادت سے شفافیت اور انصاف پر مبنی فیصلوں کا مطالبہ کیا۔




