سیاحت کا سفر ماتم میں تبدیل، گہری کھائی میں گری وین، 9 افراد کی موت

تمل ناڈو کے کوئمبٹور ضلع کے پہاڑی علاقے والپرائی میں ایک ہولناک سڑک حادثے نے خوشیوں کے سفر کو ماتم میں بدل دیا، جہاں کیرالہ سے آنے والے سیاحوں کی ایک وین گہری کھائی میں جا گری۔ اس افسوسناک حادثے میں 9 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ڈرائیور سمیت 4 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق وین میں کل 13 افراد سوار تھے اور تمام افراد کیرالہ کے ملپورم ضلع کے رہائشی تھے۔ یہ لوگ سیاحت کے لیے والپرائی آئے تھے اور واپس لوٹ رہے تھے کہ راستے میں یہ سانحہ پیش آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ والپرائی-پولاچی پہاڑی سڑک پر اترتے وقت 13ویں ہیئرپین موڑ پر ڈرائیور گاڑی پر قابو کھو بیٹھا۔ اس کے بعد وین حفاظتی بیریئر سے ٹکرائی اور سیدھی گہری کھائی میں جا گری۔

حادثہ اس قدر شدید تھا کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ پولیس کے مطابق 8 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جن میں 7 خواتین اور ایک مرد شامل تھے، جبکہ ایک اور زخمی شخص بعد میں پولاچی کے سرکاری اسپتال میں دوران علاج چل بسا۔ حادثے کے فوراً بعد پولیس، فائر بریگیڈ اور مقامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو مشکل حالات میں کھائی سے نکال کر اسپتال پہنچایا۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائی میں دشواری پیش آئی، تاہم ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو بچانے کی کوشش کی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق متوفیوں میں کچھ افراد ملپورم کے ایک اسکول سے وابستہ اساتذہ تھے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ تعطیلات گزارنے نکلے تھے۔ انہوں نے پہلے اتھیراپلی واٹرفال کا دورہ کیا اور بعد ازاں والپرائی روانہ ہوئے تھے۔ اس سانحے کی خبر ملتے ہی اسکول، مقامی آبادی اور اہل خانہ میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

کیرالہ پولیس نے کہا ہے کہ وہ تمل ناڈو پولیس کے مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پولیس نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں گاڑی کی رفتار، بریک سسٹم اور سڑک کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متوفیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

پہاڑی علاقوں میں بڑھتے سڑک حادثات ایک بار پھر حفاظتی انتظامات، ڈرائیونگ معیار اور سیاحتی راستوں کی نگرانی پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے خطرناک راستوں پر اضافی حفاظتی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

شیئر کریں۔