بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹک میں گرمی کی شدت برقرار

 بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹک میں ان دنوں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث عوام کو شدید تکلیف کا سامنا ہے۔ درجہ حرارت میں روزانہ اتار چڑھاؤ بھی محسوس کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے موسم کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

منگلورو(فکروخبرنیوز)  بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹک میں ان دنوں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث عوام کو شدید تکلیف کا سامنا ہے۔ درجہ حرارت میں روزانہ اتار چڑھاؤ بھی محسوس کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے موسم کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے سے شام میں موسم ابرآلود ہوتا ہے لیکن بھٹکل میں بارش نہیں ہوئی ہے البتہ ضلع جنوبی کنزاکے کئی علاقوں میں صبح کے اوقات میں ابر آلود موسم اور کہیں کہیں ہلکی بوندا باندی دیکھی گئی، تاہم صبح تقریباً 10 بجے کے بعد گرمی کی شدت اچانک بڑھ جاتی ہے اور دن بھر برقرار رہتی ہے۔ بعض مقامات پر شام کے وقت تیز ہواؤں کے ساتھ بادل تو چھاتے ہیں، مگر خاطر خواہ بارش نہیں ہو رہی۔

ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں ساحلی علاقوں میں ہواؤں کا رخ تبدیل ہو گیا ہے، جو اب بحیرۂ عرب سے خلیج بنگال کی سمت چل رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے باعث بارش کا مؤثر نظام تشکیل نہیں پا رہا، اور یہاں بننے والے بادل تمل ناڈو کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہاں بارش ہو رہی ہے جبکہ ساحلی کرناٹک بارش سے محروم ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے اس عرصے میں عام طور پر اچھی خاصی پری مانسون بارش ہوتی ہے لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ ساحلی خطے میں مجموعی طور پر 71 فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس میں اڈپی ضلع میں 98 فیصد، دکشینا کنڑ میں 93 فیصد اور اترا کنڑ میں 22 فیصد کمی شامل ہے۔ جہاں تقریباً 5.3 ملی میٹر بارش متوقع تھی، وہیں صرف 1.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

ادھر بڑھتی ہوئی گرمی کے پیش نظر عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق زیادہ گرمی کے اوقات میں غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کیا جائے، پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے، ہلکے اور سوتی کپڑے پہنے جائیں اور دوپہر 12 بجے سے 3 بجے کے درمیان سفر سے بچا جائے۔

مزید یہ کہ سفر کے دوران پانی ساتھ رکھنا، کیفین اور کاربونیٹیڈ مشروبات سے پرہیز، تازہ غذا کا استعمال، اور بچوں یا پالتو جانوروں کو بند گاڑیوں میں نہ چھوڑنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ طبی ماہرین نے تاکید کی ہے کہ چکر آنے یا طبیعت بگڑنے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔

شیئر کریں۔