مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کو اسرائیل کی جانب سے 40 دن تک بند رکھنے کے بعد جمعرات کو دوبارہ نمازیوں کے لیے کھول دیا گیا، جس کے بعد سینکڑوں فلسطینی مسلمان فجر کے وقت مسجد میں داخل ہوئے اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ یہ بندش ایسے وقت میں کی گئی تھی جب اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔
تفصیلات کے مطابق مسجد اقصیٰ کے دروازے فجر کی اذان کے ساتھ ہی کھول دیے گئے، جس کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی نمازی مسجد الحرم الشریف کے احاطے میں داخل ہوئے۔ کئی افراد کو آنسو بہاتے اور سجدہ شکر ادا کرتے دیکھا گیا۔ 40 دن کے وقفے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب اجتماعی نماز ادا کی گئی، جس کے لیے سینکڑوں افراد قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔
اس سے قبل اسرائیلی حکام نے 28 فروری کو مسجد اقصیٰ میں عام فلسطینیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی، اور صرف مسجد کے عملے اور وقف کے محدود اہلکاروں کو عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔ اس دوران فلسطینیوں کو شہر کی دیگر چھوٹی مساجد میں نماز ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ صورتحال اس حد تک سنگین رہی کہ اس سال عید الفطر کی نماز بھی مسجد اقصیٰ میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جو 1967 میں اسرائیلی قبضے کے بعد پہلی بار پیش آیا۔
اسی دوران اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر Itamar Ben-Gvir نے 6 اپریل کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر مزید اشتعال پیدا کیا، جبکہ مسجد اس وقت بھی عام نمازیوں کے لیے بند تھی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں کی جانب سے شدید اشتعال انگیز قرار دیا گیا۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران نہ صرف مسجد اقصیٰ بلکہ یروشلم میں واقع عیسائیوں کے مقدس مقام چرچ آف ہولی سیپلکر کو بھی بند کر دیا تھا، جس سے عالمی سطح پر مذہبی آزادی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا۔
اس بندش اور پھر اچانک کھولے جانے کے اثرات فلسطینی عوام پر گہرے مرتب ہوئے ہیں۔ ایک طرف جہاں نمازیوں کی واپسی پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، وہیں دوسری جانب اسرائیلی پالیسیوں پر سوالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، خاص طور پر مذہبی مقامات تک رسائی کو محدود کرنے کے حوالے سے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیل نے ہنگامی حالت کو بھی اپریل کے وسط تک بڑھا رکھا ہے، تاہم اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا مستقبل میں مسجد اقصیٰ دوبارہ بند کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
آخر میں یہ صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ مذہبی آزادی اور مقدس مقامات تک رسائی کا مسئلہ اب بھی فلسطین میں ایک سنگین تنازعہ بنا ہوا ہے، جس کا کوئی واضح حل فی الحال نظر نہیں آتا۔
