وزیراعظم مودی کی انتخابی ریلی ، اپوزیشن پر عرب ممالک سے تعلقات بگاڑنے کا لگایا الزام

وزیر اعظم نریندر مودی نےاسمبلی انتخابات کی مہم کے سلسلے میں سنیچر کو کیرالامیں مصروف ترین انتخابی شیڈول مکمل کیا، جس کے دوران انہوں نے تھروولا میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب اور ریاستی دارالحکومت میں ہائی پروفائل روڈ شو کی قیادت کی۔ اس دوران انہوں نے ملک کی خارجہ پالیسی کو بھی انتخابی موضوع بناتے ہوئے الزام لگایا کہ کانگریس کو جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی فکر نہیں اور وہ ایسے بیان دے رہی ہے جس کی وجہ سے عربوں سے ہندوستان کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔

نتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ’’میں یہ بات واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ الیکشن آتے جاتے رہیں گے، لیکن ہندوستانی شہریوں کی سلامتی، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے کیرالا کے لوگوں کی حفاظت، میری سب سے بڑی ترجیح ہے اور میں اسے یقینی بناؤں گا۔‘‘انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں کیرالا کے لاکھوں باشندوں کے علاوہ گوا، تمل ناڈو اور دیگر ریاستوں کے ماہی گیر بھی ایران اور مشرق وسطیٰ کے بعض علاقوں میں جاری تنازع کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ’’ہم انہیں بحفاظت واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کانگریس کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ وہ ایسے بیانات دے رہی ہے جو مغربی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں اور غیر ضروری خوف پیدا کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مظلوم بنتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ سب صرف مجھ پر سیاسی حملے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘‘

مودی نے یہ الزام ایسے وقت میں لگایا ہے جب ان کی حکومت کی خارجہ پالیسی تنقیدوں کی زد پر ہے۔ پرینکا گاندھی نےگزشتہ دنوں انتخابی ریلی میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے نمٹنے کے معاملے پر مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے مودی کو بزدل قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے جھک گئے ہیں اور ان کی حکومت خلیجی خطے میں پھنسے ہندوستانیوں کی حفاظت یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔