نئی دہلی/کولکاتا میں مغربی بنگال کے بھوانی پور علاقے میں بی جے پی امیدوار شوبھندو ادھیکاری کی نامزدگی کے دوران پیش آئے پرتشدد ٹکراؤ کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا نے سخت کارروائی کرتے ہوئے چار پولیس افسران کو معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی روڈ شو میں شریک تھے، جس کے دوران بی جے پی اور ٹی ایم سی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور امن و امان کی صورتحال بگڑ گئی۔
الیکشن کمیشن نے اس واقعے کو امن و امان کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے فوری تادیبی کارروائی اور محکمہ جاتی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ معطل کیے گئے افسران میں سدھارتھ دتہ (ڈی سی پی)، پرینکر چکرورتی (انچارج علی پور تھانہ)، چندی چرن بندو پادھیائے اور سارجنٹ سوربھ چٹو پادھیائے شامل ہیں۔ کمیشن نے چیف سکریٹری دشینت ناریالہ کو ہدایت دی ہے کہ ان افسران کو فوری طور پر معطل کر کے ان کی جگہ نئے افسران تعینات کیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاستی حکام کے ساتھ میٹنگ کی اور کولکاتا کے پولیس کمشنر اجے نند کی سخت سرزنش بھی کی۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ایسے حساس انتخابی ماحول میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ادھر اس پورے معاملے میں ایک اور سیاسی پہلو بھی سامنے آیا ہے جہاں ٹی ایم سی نے بھوانی پور کے انتخابی افسر پر بی جے پی امیدوار شوبھندو ادھیکاری کے ساتھ مبینہ ساز باز کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے تبادلے کا مطالبہ کیا، تاہم الیکشن کمیشن نے اس مطالبے کو نظر انداز کر دیا ہے، جس کے بعد سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اس واقعے کے بعد کالی گھاٹ اور علی پور تھانوں میں تین الگ الگ شکایات درج کی گئی ہیں، جن کی بنیاد پر ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے۔ ان میں سے دو مقدمات پولیس نے خود نوٹس لیتے ہوئے قائم کیے ہیں، جبکہ تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی بنگال میں سیاسی درجہ حرارت پہلے ہی کافی بلند ہے اور مختلف جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے، جس کے باعث امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
