دارالحکومت دہلی کے جن پتھ علاقے میں فلسطین کے حق میں ایک اہم احتجاجی مظاہرہ دیکھنے میں آیا، جہاں انڈین پیپل ان سالیڈیرٹی ود فلسطین (IPSP) کے اراکین نے میکڈونلڈز کے ایک آؤٹ لیٹ کے باہر جمع ہو کر عالمی بائیکاٹ مہم کی حمایت میں آواز بلند کی۔ 3 اپریل کو ہونے والا یہ مظاہرہ ایک فلیش گیدرنگ کے طور پر منظم کیا گیا تھا، جس کا مقصد عوام کو فلسطینیوں کے حق میں بیدار کرنا اور بعض کثیر القومی کمپنیوں کے کردار پر سوال اٹھانا تھا۔
مظاہرین نے اس موقع پر نعرے بازی کی، لوگوں سے براہ راست بات چیت کی اور پمفلٹس تقسیم کرتے ہوئے انہیں بائیکاٹ مہم کا حصہ بننے کی اپیل کی۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ اس مہم کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ عالمی سطح پر کارپوریٹ ذمہ داری کے مسئلے کو اجاگر کرنا اور عوامی رائے کو منظم کرنا ہے، تاکہ ایسے اداروں پر دباؤ ڈالا جا سکے جو متنازعہ علاقوں میں سرگرم ہیں۔
احتجاج کے دوران شریک ایک فرد عبدالرؤوف نے الزام عائد کیا کہ میکڈونلڈز نے اسرائیلی افواج کو کھانا فراہم کر کے ایک متنازع کردار ادا کیا، جسے انہوں نے سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے انسانی حقوق کے خلاف اقدام قرار دیا۔ اسی طرح مظاہرین نے کوکا کولا کے کاروباری آپریشنز پر بھی سوالات اٹھائے اور بعض تنظیموں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی سے منسلک فرنچائزز ایسے علاقوں میں سرگرم ہیں جو اسرائیلی بستیوں سے جڑے ہوئے ہیں اور عالمی سطح پر متنازع سمجھے جاتے ہیں۔
ایک اور مقرر یوگیش نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ سلوک اور حالیہ قانونی اقدامات پر تشویش ظاہر کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہ رہیں بلکہ ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ ان کی مہم کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ انسانی حقوق اور انصاف کی حمایت پر مبنی ہے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں اور مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں مظاہروں اور بائیکاٹ مہمات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دہلی کا یہ مظاہرہ بھی اسی عالمی رجحان کا حصہ ہے، جہاں عوامی سطح پر کارپوریٹ احتساب اور انسانی حقوق کے مسائل کو جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
اس احتجاج کے اثرات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ اس طرح کی مہمات عالمی کمپنیوں پر دباؤ بڑھانے اور پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی کوششوں کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
