کرناٹک میں الیکٹرک گاڑیوں پر نیاٹیکس، بی جے پی کا کانگریس پر سخت حملہ


کرناٹک میں الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کے حکومتی فیصلے پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ای وی فور وہیلرز پر لائف ٹائم ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بی وائی وجیندر نے اس اقدام کو “ریاست کے مستقبل پر ٹیکس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالے گا۔

تفصیلات کے مطابق کرناٹک حکومت نے کرناٹک موٹر وہیکل ٹیکسیشن (ترمیمی) بل 2026 کے تحت الیکٹرک کاروں، جیپوں، اومنی بسوں اور نجی سروس گاڑیوں پر 5 سے 10 فیصد تک لائف ٹائم ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ نئے ضابطے کے مطابق 10 لاکھ روپے تک کی گاڑیوں پر 5 فیصد، 10 سے 25 لاکھ کے درمیان گاڑیوں پر 8 فیصد جبکہ 25 لاکھ سے زائد قیمت والی گاڑیوں پر 10 فیصد ٹیکس لیا جائے گا۔ تاہم الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں اس ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گی۔

اس سے قبل ریاست میں صرف 25 لاکھ روپے سے زائد قیمت والی ای وی گاڑیوں پر 10 فیصد ٹیکس نافذ تھا جبکہ دیگر گاڑیوں کو صاف توانائی کے فروغ کے لیے ٹیکس سے چھوٹ دی گئی تھی۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس پالیسی نے کرناٹک کو ملک میں الیکٹرک موبیلٹی کے میدان میں ایک مضبوط مقام دلایا تھا اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ صارفین کا اعتماد بھی بڑھایا تھا۔

بی وائی وجیندر نے کہا کہ ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مغربی ایشیا کی کشیدگی کے باعث ایندھن مہنگا ہونے کا خدشہ ہے، حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں کو مزید سستا اور قابل رسائی بناتی، لیکن اس کے برعکس کانگریس حکومت نے اسی متبادل کو مہنگا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیاسی پس منظر میں بی جے پی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت مالی بحران کا شکار ہے اور محصولات بڑھانے کے لیے ہر ممکن ذریعہ تلاش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف محکموں پر آمدنی بڑھانے کا دباؤ ہے جس کے باعث طویل مدتی ماحولیاتی پالیسیوں کو قربان کیا جا رہا ہے۔

اس فیصلے کے اثرات متوسط طبقے پر زیادہ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ جو خاندان ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑی خریدنا چاہتے تھے، انہیں اب اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ای وی کی فروخت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی بہتری کے اہداف بھی سست روی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آخر میں بی جے پی نے خبردار کیا کہ بنگلورو جیسے شہر، جہاں پہلے ہی ٹریفک سے پیدا ہونے والی آلودگی ملک میں سرفہرست ہے، وہاں صاف توانائی کے متبادل کو مہنگا کرنا ایک غلط سمت میں قدم ہے، جس کے طویل مدتی اثرات آئندہ نسلوں پر پڑ سکتے ہیں۔