ضلع کے بھوپا تھانہ علاقے میں مساجد سے متعلق جاری تنازع میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ہائی کورٹ کے حکم پر عمر مسجد کی سیل کھول دی گئی ہے، جبکہ دیگر دو مساجد کے معاملات تاحال عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔ اس فیصلے کے بعد مقامی مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہیں امید پیدا ہوئی ہے کہ باقی مساجد کے معاملات میں بھی انصاف ملے گا۔
تفصیلات کے مطابق رحمانیہ کالونی میں واقع عمر مسجد اور رحمانیہ مسجد کو تقریباً دو ماہ قبل ضلع انتظامیہ اور پولیس نے بغیر اجازت تعمیر کے الزام میں اچانک سیل کر دیا تھا۔ اس کارروائی پر نہ صرف مقامی افراد بلکہ مسجد انتظامیہ نے بھی شدید اعتراضات اٹھائے تھے۔ مسجد کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ یہ دونوں مساجد تقریباً دس برس قبل نجی زمین پر تعمیر کی گئی تھیں اور زمین کے باقاعدہ کاغذات اور بیع نامہ بھی موجود ہیں۔
مقامی افراد نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے کسی قسم کی پیشگی اطلاع یا نوٹس دیے بغیر کارروائی انجام دی، جس سے عوام میں شدید ناراضگی پیدا ہوئی۔ سابق پردھان محمد اظہار نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے روز کی گئی کارروائی کے دوران نہ صرف مسجد کو سیل کیا گیا بلکہ امام کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ان کے مطابق متعدد بار حکام سے رجوع کرنے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی جس کے بعد مجبوراً معاملہ عدالت میں لے جایا گیا۔
بعد ازاں الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران عمر مسجد کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے سیل کھولنے کا حکم جاری کیا گیا جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے مسجد کو دوبارہ عبادت کے لیے کھول دیا گیا۔ تاہم رحمانیہ مسجد کے حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے اور اس کا معاملہ بدستور عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
دوسری جانب مدینہ کالونی میں زیرِ تعمیر مدینہ مسجد کو لے کر بھی تنازع کھڑا ہو گیا ہے جہاں پولیس نے بغیر اجازت تعمیر کا الزام عائد کرتے ہوئے مسجد کے متولی اور ایک دیگر شخص کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے قبل انہیں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا جس پر وہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
ان تمام معاملات کے باعث علاقے میں صورتحال حساس بنی ہوئی ہے اور عوام کی نظریں اب ہائی کورٹ کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں جو باقی مساجد کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ عمر مسجد کے حق میں آنے والے فیصلے نے جہاں ایک امید جگائی ہے وہیں انصاف کی مزید توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔
