بنگلورو کی پارپنا اگرہارا سینٹرل جیل ایک بار پھر بڑے تنازع کی زد میں آگئی ہے۔ جیل کے اندر سے تین زیر سماعت قیدیوں کی موبائل فون استعمال کرتے ہوئے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ پولیس اور جیل انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ یہ ویڈیو گزشتہ ہفتے ایک کنڑ نیوز چینل پر نشر ہونے کے بعد منظرِ عام پر آئی، جس میں قتل کیس کا ملزم ابھیی، زپسن ڈینیئل اور سنجیو نامی قیدی موبائل پر اسٹریمنگ پلیٹ فارم دیکھتے اور خود کو ریکارڈ کرتے نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو میں قیدیوں کو آئی پی ایل میچوں پر گفتگو کرتے اور جیل کے اعلیٰ حکام، بالخصوص ڈائریکٹر جنرل آلوک کمار پر موبائل فراہم کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے سنا گیا۔
لیکن اندرونی تحقیقات کے دوران قیدیوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ڈی جی پی آلوک کمار کی جانب سے جیل کے نظام میں کی جانے والی اصلاحات کو روکنے اور انہیں بدنام کرنے کے لیے یہ من گھڑت ویڈیو اسٹیج کی تھی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ ایک باقاعدہ سازش کا حصہ تھا کیونکہ حال ہی میں جیل میں انتظامی تبدیلیاں کی گئی تھیں، جس کے تحت قیدیوں کی بیرکیں تبدیل کر دی گئی تھیں۔ اس سیکیورٹی کوتاہی پر کارروائی کرتے ہوئے تین وارڈروں نرنجن کامتھ، ہنومنتپا ہڈپڈ اور شیوانند کرلابتی کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
تلاشی مہم کے دوران جیل انتظامیہ نے پائپ لائن کے اندر تین فٹ کی گہرائی میں چھپائے گئے تین موبائل فون بھی برآمد کیے ہیں۔ یہ فون دودھ کے پیکٹوں میں لپیٹ کر اتنی گہرائی میں دبائے گئے تھے کہ اسکینرز بھی انہیں پکڑنے میں ناکام رہے۔ قیدیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سامان انہیں دو سال قبل ایک نائجیرین شہری نے دیا تھا۔ دوسری جانب جیل کے اندر فعال موبائل سگنلز پائے جانے پر متعلقہ ٹیلی کام کمپنی کو بھی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، جبکہ تینوں قیدیوں کے خلاف پارپنا اگرہارا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ٹی این ایم کے ان پٹ کے ساتھ
