ویسٹ ایشیا کشیدگی کے درمیان پریمیم پٹرول میں 11 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ


ویسٹ ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بھارت میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں یکم اپریل سے پریمیم پٹرول کی قیمت میں 11 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ دارالحکومت دہلی میں انڈین آئل کے 100 آکٹین پٹرول XP100 کی قیمت 149 روپے سے بڑھا کر 160 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جب کہ پریمیم ڈیزل اور کمرشل ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ پریمیم پٹرول خاص طور پر لگژری گاڑیوں اور اسپورٹس بائیکس میں استعمال ہوتا ہے، جہاں زیادہ آکٹین لیول انجن کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔ اسی کے ساتھ پریمیم ڈیزل "ایکسٹرا گرین” کی قیمت بھی بڑھا کر 92.99 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جو پہلے 91.49 روپے تھی۔ تیل کمپنیوں نے باضابطہ طور پر اس اضافے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی، تاہم عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید برآں کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کیا گیا ہے، جہاں 19 کلوگرام کا سلنڈر اب 2078.50 روپے کا ہو گیا ہے، جو ایک ماہ قبل 1768.50 روپے تھا۔ اس طرح صرف ایک ماہ میں 300 روپے سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ یہ رواں سال کا پانچواں بڑا اضافہ ہے۔ تاہم گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں فی الحال مستحکم ہیں اور دہلی میں 14.2 کلوگرام سلنڈر 913 روپے میں دستیاب ہے۔

ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث فضائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ دہلی میں ATF کی قیمت 2 لاکھ 7 ہزار روپے فی کلو لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ کولکاتا، ممبئی اور چنئی میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی روٹس پر چلنے والی پروازوں کے لیے ATF کی قیمت تقریباً دوگنی ہو گئی ہے، جو عالمی مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ تمام اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ویسٹ ایشیا میں امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے پر دباؤ پیدا ہو چکا ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے بلکہ سپلائی چین اور لاجسٹکس لاگت میں بھی اضافہ کیا ہے۔

حکومت نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ایندھن کی سپلائی مکمل طور پر مستحکم ہے اور کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں۔ وزارت پیٹرولیم کے مطابق تمام پٹرول پمپس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور شہریوں کو افواہوں پر دھیان نہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ریفائنریز کو مکمل صلاحیت کے ساتھ چلانے اور ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔