ایک معلم، امام اور ایک باوقار انسان کی یادیں
ابوالفیض اعظمی ؔ
انسان کی زندگی میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزر جانے کے باوجود کبھی فراموش نہیں ہوتے۔ وہ لمحے انسان کے دل و دماغ میں اس طرح محفوظ ہو جاتے ہیں جیسے کسی پتھر پر گہرا نقش ثبت ہو جائے۔ سال گزر جاتے ہیں، موسم بدل جاتے ہیں، مگر وہ یادیں اپنی تازگی برقرار رکھتی ہیں۔ 26 مارچ 2018 کی صبح بھی میری زندگی کا ایسا ہی ایک دن ہے جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی دل بوجھل ہو جاتا ہے اور ماضی کے کئی مناظر ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے ابھر آتے ہیں۔
وہ صبح بظاہر ایک عام صبح تھی۔ وقت غالباً سات سے آٹھ بجے کے درمیان کا تھا۔ میں اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف تھا اور مجھے اپنے بڑے بھائی کے گھر جانا تھا تاکہ اپنی بہن کو امتحان گاہ تک لے جا سکوں۔ اس دن اس کا انگریزی کاامتحان تھا اور میں نے سوچا تھا کہ اسے وقت پر اسکول پہنچا دوں گا۔
جب میں بھائی کے گھر کے قریب پہنچا تو ماحول میں ایک عجیب سی خاموشی محسوس ہوئی۔ عام طور پر صبح کے وقت گھر کے اندر اور باہر کچھ نہ کچھ چہل پہل رہتی ہے، مگر اس دن ہر طرف ایک پراسرار سکوت طاری تھا۔ دل میں ایک انجانی سی بے چینی پیدا ہونے لگی۔
میں گھر کے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ میری بہن نقاب پہنے اسکول جانے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ اس کے ہاتھ میں کتابیں تھیں اور وہ بظاہر امتحان کے لیے جانے کو تیار تھی، مگر اس کے قدم جیسے اپنی جگہ سے ہل نہیں رہے تھے۔ وہ خاموشی سے ایک جگہ کھڑی تھی جیسے کسی گہرے صدمے نے اسے ساکت کر دیا ہو۔
میں نے معمول کے انداز میں کہا کہ چلو دیر ہو رہی ہے، ہمیں اسکول کے لیے نکلنا چاہیے۔ مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی خاموشی نے میرے دل میں مزید اضطراب پیدا کر دیا۔ جب میں نے دوبارہ زور دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا بات ہے تو اس نے دھیمی آواز میں کہا:
’’ابھی ابھی ابو جان کا انتقال ہو گیا ہے۔‘‘
یہ الفاظ سن کر ایک لمحے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وقت رک گیا ہو۔ دل پر ایک ایسا صدمہ لگا جسے بیان کرنا آسان نہیں۔ چند لمحے پہلے تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا، اور اب اچانک زندگی کا ایک بہت بڑا سہارا ہم سے جدا ہو چکا تھا۔
اس کے بعد کا پورا دن ایک عجیب کیفیت میں گزرا۔ گھر میں رشتہ داروں، دوستوں اور جاننے والوں کا آنا جانا شروع ہو گیا۔ والد صاحب کی تجہیز و تکفین کے انتظامات ہونے لگے۔ ہم سب اپنے اپنے طور پر اس صدمے کو برداشت کرتے ہوئے ضروری ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
دہلی جیسے بڑے شہر میں جہاں لوگ عموماً اپنی مصروفیات میں اس قدر مشغول رہتے ہیں کہ بلا ضرورت کسی سے ملنا بھی کم ہی ہوتا ہے، وہاں اس دن دوستوں اور احباب نے جس طرح ہمارا ساتھ دیا وہ واقعی قابلِ ذکر تھا۔ انہوں نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود نہ صرف ہمارے غم میں شرکت کی بلکہ ہر مرحلے میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔ کسی نے انتظامات سنبھالے، کسی نے لوگوں کی رہنمائی کی اور کسی نے ہمیں حوصلہ دیا۔ انہوں نے دوستی اور ہمسائیگی کا پورا پورا حق ادا کیا۔
اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے اور انہیں دین و دنیا دونوں جگہ کامیابی نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
دنیا کی حقیقت یہی ہے کہ ہر جان کو ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے۔ لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد بھی ان کی یادیں لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ اور اگر وہ جانے والا کوئی قریبی رشتہ ہو، ایسا قریبی جس سے انسان کی دین و دنیا دونوں وابستہ ہوں، تو اس کی جدائی کا قلق انسان کے دل میں عمر بھر باقی رہتا ہے۔
میرے والد صاحب بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔
جب سے میں نے شعور کی آنکھ کھولی، میں نے انہیں ہمیشہ ایک محنتی، باوقار اور خوددار انسان کے طور پر دیکھا۔ زندگی میں مالی مشکلات بھی آئیں اور کئی طرح کی تنگیاں بھی، مگر انہوں نے کبھی حالات کے سامنے ہار نہیں مانی۔ تنگ دستی کے باوجود ان کی خودداری کا عالم بیان سے باہر تھا۔
ہمارے گھر میں ہم چھ بھائی اور ایک بہن ہیں۔ ایک بڑے خاندان کی پرورش کرنا یقیناً آسان کام نہیں ہوتا، خاص طور پر اس وقت جب وسائل محدود ہوں۔ مگر میرے والد صاحب نے ہمیشہ بڑے صبر، حوصلے اور حکمت کے ساتھ اپنی تمام ذمہ داریاں نبھائیں۔
انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کو اپنی زندگی کی اہم ترین ذمہ داری سمجھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی اولاد نہ صرف تعلیم حاصل کرے بلکہ اچھے اخلاق، دیانت اور خودداری کے ساتھ زندگی گزارنا بھی سیکھے۔ الحمد للہ آج ہم سب دین و دنیا کی تعلیم سے آراستہ ہو کر اپنے حصے کا رزق کما رہے ہیں۔
گاؤں اور اطراف کے بزرگ حضرات آج بھی اکثر کہا کرتے ہیں کہ مولانا نے جس طرح اپنے بچوں کو پڑھایا اور ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ دی ہے، اس کی مثال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ اس بات پر حیرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم میں کبھی کمی نہیں آنے دی۔
والد صاحب کی پوری زندگی درس و تدریس سے وابستہ رہی۔ تعلیم دینا ان کے لیے صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن تھا۔ وہ اپنے شاگردوں کو صرف کتابی علم ہی نہیں دیتے تھے بلکہ انہیں اخلاق، کردار اور زندگی کے اصول بھی سکھاتے تھے۔
ان کے شاگردوں کے دلوں میں ان کے لیے بے حد محبت اور احترام تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ اگر کوئی شاگرد راستے میں انہیں دیکھ لیتا تو بغیر سلام کیے آگے نہیں بڑھتا تھا۔
یہاں تک کہ اگر کسی شاگرد کا راستے میں گاڑی پر گزرتے ہوئے والدصاحب سے آمنا سامنا ہو جاتا تو وہ فوراً اپنی گاڑی روک دیتا، نیچے اتر کر ادب کے ساتھ ان کے پاس آتا، سلام کرتا اور ان کی دعا لیے بغیر آگے نہیں بڑھتا تھا۔ یہ منظر اس بات کی علامت تھا کہ ایک سچے استاد کا مقام اپنے شاگردوں کے دلوں میں کتنا بلند ہوتا ہے۔
والد صاحب کی زندگی کا ایک اور اہم پہلو ان کی دینی خدمات تھیں۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت اور ہوش و حواس کی نعمت عطا فرمائی، اس وقت تک گاؤں کی جامعہ مسجد کی امامت و خطابت کی ذمہ داری بھی انہی کے پاس رہی۔وہ نہایت پابندی کے ساتھ نمازوں کی امامت فرماتے تھے۔ جمعہ کے دن خطبہ بھی وہی دیتے تھے اور عیدالفطر و عیدالاضحیٰ کے مواقع پر عیدین کے خطبات دینے کی سعادت بھی انہیں ہی حاصل تھی۔
جب وہ جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوتے تو مسجد میں ایک خاص سکون اور وقار کا ماحول پیدا ہو جاتا تھا۔ لوگ خاموشی اور توجہ کے ساتھ ان کا خطبہ سنتے۔ ان کی گفتگو نہایت سادہ مگر دل میں اتر جانے والی ہوتی تھی۔ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں لوگوں کو دین کی بنیادی تعلیمات سمجھاتے اور معاشرے میں محبت، اخلاق اور بھائی چارے کی تلقین کرتے۔
عیدین کے مواقع پر جب پورا گاؤں عیدگاہ یا مسجد میں جمع ہوتا اور وہ خطبہ دیتے تو ایک خاص روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔ وہ لوگوں کو یاد دلاتے کہ عید صرف خوشی کا دن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور غریبوں اور محتاجوں کا خیال رکھنے کا دن بھی ہے۔
والد صاحب کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی سادگی اور قناعت پسندی تھی۔ وہ نہایت سادہ زندگی گزارنے والے انسان تھے۔ لباس سادہ، رہن سہن سادہ اور گفتگو میں بھی سادگی نمایاں ہوتی تھی۔ مگر اس سادگی کے اندر ایک خاص وقار اور عظمت پوشیدہ تھی۔
گاؤں اور ا طراف کے لوگ ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ جب بھی وہ کہیں سے گزرتے تو لوگ ادب کے ساتھ سلام کرتے اور ان کی خیریت دریافت کرتے۔ بعض اوقات گاؤں کے بزرگ حضرات ان کے پاس بیٹھ جاتے اور دینی مسائل یا زندگی کے مختلف معاملات پر ان سے رہنمائی حاصل کرتے۔
گاؤں کے بچے بھی ان سے بے حد مانوس تھے۔ جب وہ مسجد یا مدرسہ کی طرف جاتے تو بچے ادب کے ساتھ سلام کرتے اور وہ محبت سے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور دعا دیتے۔
28 اپریل 2007 کو ان کی زندگی میں ایک بڑا امتحان آیا جب دوران تدریس ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ اس بیماری نے ان کی جسمانی طاقت کو متاثر کیا، مگر اس کے باوجود ان کا علمی شوق کم نہ ہوا۔
جب بھی طبیعت اجازت دیتی وہ ہمیں بلاتے اور کچھ نہ کچھ پڑھاتے رہتے۔ کبھی قرآن کی تلاوت کی طرف توجہ دلاتے، کبھی کسی حدیث کی تشریح کرتے اور کبھی زندگی کے تجربات بیان کرتے۔
ان کی نصیحتیں آج بھی ہمارے دلوں میں محفوظ ہیں۔
’’وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ علم انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور اچھا کردار اس سے بھی بڑی دولت ہے۔ خوداری اور قناعت پسندی انسان کی اصل پہچان ہے۔ اس کی حفاظت انسان کو ہمیشہ کرنی چاہیے۔‘‘
آج جب میں ماضی کی طرف نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ہمیں صرف تعلیم ہی نہیں دی بلکہ زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھایا۔ انہوں نے ہمیں صبر، محنت، سچائی اور خودداری کا درس دیا۔
اگر آج ہم اپنی زندگی میں کچھ اچھا کر پا رہے ہیں تو اس کی بنیاد والد صاحب کی اسی تربیت اور محنت پر قائم ہے۔
آج بھی جب کبھی گاؤں جاتا ہوں تو بعض بزرگ حضرات والد صاحب کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ ان کے اخلاق، ان کی سادگی اور ان کی خدمتِ دین کو یاد کرتے ہیں۔
انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے مگر اس کے اعمال باقی رہتے ہیں۔ والد صاحب کی زندگی بھی اسی حقیقت کی ایک روشن مثال ہے۔
انہوں نے اپنی پوری زندگی علم کی خدمت، دین کی خدمت اور اپنی اولاد کی تربیت میں گزار دی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے والد صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(مضمون نگارکی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ ادارہ)
31-03-2026
