اتر پردیش کے ضلع سیتاپور میں پیر 30 مارچ 2026 کی علی الصبح انتظامیہ نے ایک 12 سال پرانی مسجد کو مسمار کر دیا، جس کے بعد علاقے میں بحث و تشویش کا ماحول پیدا ہو گیا۔ یہ کارروائی لیہرپور کے علاقے نئی گاؤں بہیتی میں انجام دی گئی جہاں حکام کے مطابق مسجد سرکاری زمین، جو ایک تالاب کے لیے مختص تھی، پر تعمیر کی گئی تھی۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نتیش کمار کی قیادت میں یہ آپریشن صبح تقریباً 3 بجے شروع کیا گیا، جس میں سینئر افسران کے ساتھ تین بلڈوزر اور تقریباً 500 پولیس اہلکار تعینات تھے۔ سخت سکیورٹی کے درمیان کارروائی مکمل کی گئی اور انتظامیہ کے مطابق اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ حکام نے علی الصبح کارروائی کی وجہ یہ بتائی کہ مقام مرکزی سڑک کے قریب تھا اور ٹریفک میں خلل سے بچنا مقصود تھا۔
یہ تنازعہ کئی برسوں پر محیط بتایا جا رہا ہے۔ مقامی گرام سبھا نے شکایت درج کرائی تھی کہ مذکورہ مسجد غیر قانونی طور پر اس زمین پر تعمیر کی گئی ہے جو تالاب اور قبرستان کے لیے مخصوص تھی۔ اس سلسلے میں 18 دسمبر 2025 کو باضابطہ مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد 6 جنوری 2026 کو تحصیل عدالت نے اس تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ہٹانے اور زمین خالی کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی حکم کے باوجود جب مقررہ مدت میں عمل درآمد نہیں ہوا تو انتظامیہ نے اتر پردیش ریونیو کوڈ کی دفعہ 67 کے تحت نوٹس جاری کیا۔ تاہم مبینہ تجاوزات نہ ہٹائے جانے پر آخرکار انتظامیہ نے بلڈوزر کارروائی کرتے ہوئے مسجد کو منہدم کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری زمین سے غیر قانونی قبضے ہٹانا اولین ترجیح ہے اور یہ کارروائی مکمل طور پر قانونی عمل کے تحت انجام دی گئی ہے۔
دوسری جانب مسجد سے وابستہ مولانا عبد الرحمن نے اس معاملے کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کارروائیاں صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی پس منظر بھی رکھتی ہیں، جس کی مکمل حقیقت سامنے آنی باقی ہے۔
