جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اسرائیلی فضائی حملے میں تین صحافی جاں بحق ہو گئے، جب ان کی گاڑی کو شہر جزین کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے نے جنگی علاقوں میں صحافیوں کی سلامتی پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں علی شعیب جو Al-Manar TV کے نمائندہ تھے، فاطمہ فاطونی جو Al-Mayadeen سے وابستہ تھیں، اور ایک کیمرہ مین شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ان کی گاڑی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
Israeli Army نے ایک بیان میں علی شعیب کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہے، تاہم دیگر دو صحافیوں کی موت کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس سے قبل Lebanese National News Agency نے اطلاع دی تھی کہ جزین کے علاقے میں البرد روڈ پر ایک گاڑی پر فضائی حملہ کیا گیا، مگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی صبح سے ہی اسرائیل نے لبنان کے 42 شہروں، قصبوں اور علاقوں پر فضائی اور توپخانے کے حملے کیے، جن میں زیادہ تر جنوبی علاقے شامل تھے۔ یہ حملے خطے میں جاری وسیع تر فوجی کارروائی کا حصہ ہیں، جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 1,142 افراد جاں بحق اور 3,315 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تنازع تیزی سے انسانی بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
جنگی حالات میں صحافیوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ اطلاعات کی فراہمی کے لیے میدان میں موجود افراد خود کس قدر خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق صحافیوں کو غیر جنگجو سمجھا جاتا ہے، مگر عملی طور پر وہ اکثر حملوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔
