محمد طلحہ سدی باپا
بھٹکل کی مٹی نے کئی ایسے لوگوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو کسی ذاتی شہرت کے لیے نہیں بلکہ ایک بڑے مقصد کے لیے وقف کیا۔ انہی میں سے ایک نام سید حسن برماور کا بھی ہے — ایک ایسا شخص جس کی رسمی تعلیم اگرچہ محدود رہی، مگر جس کا شعور، فکر اور وابستگی ایک مکمل تحریک کی آئینہ دار بن گئی۔
سید حسن برماور ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ حالات ایسے تھے کہ انہیں ابتدائی تعلیم بھی مکمل کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ کم عمری ہی میں گھر کی ذمہ داریوں نے انہیں عملی زندگی میں دھکیل دیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے ان کی جدوجہد کا آغاز ہوا۔
معاشی تنگی سے نکلنے کے لیے وہ سعودی عرب گئے۔ وہاں ابتدا میں مشکلات کا سامنا کیا، مگر اپنی محنت، دیانت اور مستقل مزاجی کے بل پر انہوں نے نہ صرف اپنا مقام بنایا بلکہ کاروبار میں بھی کامیابی حاصل کی۔ وقت کے ساتھ وہ ایک معروف اور باوقار تاجر کے طور پر جانے جانے لگے۔
لیکن ان کی زندگی کا اصل حسن صرف کامیابی نہیں تھا — بلکہ وہ احساس تھا جو غربت کے دنوں نے ان کے دل میں پیدا کیا تھا۔ انہوں نے اپنی خوشحالی کو صرف اپنے لیے نہیں رکھا بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کے غریب افراد کی مدد کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ اپنے کئی محتاج رشتہ داروں کو روزگار فراہم کیا اور انہیں خود کفیل بنانے کی کوشش کی۔
ان کی تحریک اسلامی سے وابستگی محض زبانی نہیں تھی بلکہ ان کی پوری زندگی اس کی عملی تصویر تھی۔ انہوں نے اپنے بچوں کے نام بھی تحریک کی عظیم شخصیات کے نام پر رکھے — جیسے **سید قطب، ابوالاعلیٰ اور عبدالقادر عوضہ — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے گھرانے میں بھی اس فکر کو زندہ رکھنا چاہتے تھے۔
بھٹکل میں خدمتِ خلق کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ۔ جب اسلامی ویلفیئر سوسائٹی نے بلا سود قرض (انٹرسٹ فری لون) کا نظام شروع کیا، تو ابتدائی دنوں میں مالی وسائل کی شدید کمی تھی۔ ایک اجلاس میں، جہاں خود ذمہ داران اپنی جیب سے تعاون کر رہے تھے، سید حسن برماور کھڑے ہوئے اور 1988-89 کے اس مشکل دور میں ایک بڑی رقم دینے کا اعلان کیا۔ یہ صرف ایک مالی تعاون نہیں تھا، بلکہ ایک حوصلہ افزائی تھی جس نے اس منصوبے کو استحکام بخشا۔
اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی ان کا جذبہ نمایاں تھا۔ 1971-72 میں قائم ہونے والے شمس اسکول کا مقصد انگریزی میڈیم تعلیم کو ایک اسلامی اور سستی متبادل کے طور پر پیش کرنا تھا، تاکہ کانوینٹ اسکولوں کا اثر کم کیا جا سکے۔ اس ادارے کو چلانے کے لیے جب وسائل درکار تھے، تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مالی تعاون کیا۔
انہوں نے خود بھی ایک اسکول قائم کیا، اگرچہ وہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا، مگر اس کی عمارت — جو ان کے بڑے بیٹے "سید قطب” کے نام سے منسوب تھی — انہوں نے جماعت اسلامی ہند بھٹکل کو عطیہ کر دی۔ افسوس کہ آج تک یہ عطیہ اپنے مکمل مقصد کو حاصل نہ کر سکا، اور ان کا یہ خواب ابھی تک تعبیر کا منتظر ہے۔
مرحوم کی زندگی کے آخری ایام بھی ان کی وابستگی کی روشن مثال ہیں۔ بیماری اور کمزوری کے باوجود وہ باقاعدگی سے ہفتہ وار اجتماع اور وقتا فوقتاً منعقد ہونے والے تربیتی پروگراموں میں میں شرکت کرتے رہے۔ اکثر اپنے بڑے بیٹے "سید قطب” کے ساتھ شریک ہوتے، گویا ان کی جسمانی کمزوری بھی ان کے عزم کو کمزور نہ کر سکی۔
ان کی ایک نمایاں صفت ان کی مہمان نوازی تھی۔ جب بھی جماعت اسلامی ہند کی کوئی شخصیت یا کوئی معزز مہمان بھٹکل تشریف لاتے تو وہ پوری کوشش کرتے کہ اسے اپنے گھر مدعو کریں۔ چاہے ناشتہ ہو یا کھانا — وہ دل کی گہرائی سے خدمت کرتے اور اس کو اپنی سعادت سمجھتے۔ ان کے لیے یہ محض مہمان نوازی نہیں بلکہ ایک تحریکی جذبہ تھا۔
ان کا خاندان بھی اسی دینی و تحریکی مزاج کا عکاس ہے۔ ان کا بڑا بیٹا جماعت سے وابستہ ہے اور رکنیت کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ دیگر بیٹے، بیٹیاں اور داماد بھی تحریک سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی تربیت اور فکر کا تسلسل ہے جو ان کے بعد بھی جاری رہے گا۔
سید حسن برماور کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عظمت کا معیار صرف ڈگریاں نہیں ہوتیں، بلکہ اخلاص، خدمت اور مقصد سے وابستگی ہوتی ہے۔ وہ ایک خاموش محسن تھے، جنہوں نے نہ کسی شہرت کی خواہش کی اور نہ کسی صلے کی طلب — بلکہ صرف اپنے رب کی رضا کو اپنا مقصد بنایا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو قبول کرے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے ادھورے خوابوں کو پورا ہونے کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
