فرانسسکا البانیز کا اسرائیل پر ’تشدد کی پالیسی‘ اپنانے کا الزام؛ عالمی بےحسی نےمظالم کی راہ ہموار کی

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کیلئے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے الزام لگایا کہ اسرائیل کو عملی طور پر ”فلسطینیوں پر تشدد کا لائسنس“ دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں اسرائیل کے ذریعے فلسطینیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم مظالم کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے البانیز نے کہا کہ ان کی تحقیقات ”فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی“ کی دستاویزات فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”فلسطینیوں پر تشدد اسرائیل کی پالیسیوں کی مرکزی خصوصیت بن چکا ہے۔“ انہوں نے دلیل دی کہ عالمی حکومتوں نے اپنی بے حسی اور سیاسی حمایت کے ذریعے فلسطینیوں پر جاری ان مظالم کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ”اسرائیل کو عملی طور پر فلسطینیوں پر تشدد کا لائسنس دے دیا گیا ہے کیونکہ زیادہ تر حکومتوں نے اسے ایسا کرنے کی اجازت دی ہے۔“

رپورٹ میں گرفتاریوں اور حراست میں اموات کی تفصیلات

رپورٹ کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جنوری ۲۰۲۶ء کے درمیان اسرائیل نے بچوں سمیت ۱۸۵۰۰ سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔ رپورٹ کے مطابق، تقریباً ۱۰۰ قیدی حراست کے دوران ہلاک ہوئے، جبکہ تقریباً ۴۰۰۰ افراد تاحال جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہزاروں فلسطینیوں کو باضابطہ الزامات کے بغیر غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے۔ زیرِ حراست افراد میں ڈاکٹر، صحافی اور انسانی ہمدردی کے کارکن بھی شامل ہیں۔

البانیز نے کہا کہ مبینہ مظالم اب جیلوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہائشی گھروں، اسپتالوں اور انفراسٹرکچر کی تباہی کے ساتھ فلسطینیوں کی بے دخلی اور محرومی کو ”تشدد زدہ ماحول“ قرار دیا۔

شدت پسندی اور قانونی کارروائی کی وارننگ

اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے یہ انتباہ بھی جاری کیا کہ فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت متعارف کرانے کا مجوزہ اسرائیلی بل، ”خطرناک شدت پسندی“ کی علامت ہوگا۔ انہوں نے سینئر اسرائیلی حکام، جن میں اتامار بن گویر، بیزلیل اسموٹریچ اور اسرائیل کاٹز نام شامل ہیں، کے خلاف بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جن اسرائیلی حکام کے خلاف شواہد موجود ہوں، ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے پر غور کیا جانا چاہئے۔

اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کیا

اسرائیل نے البانیز کی تحقیقات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ان پر جانبداری کا الزام لگایا اور ان کی رپورٹ کو سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے۔ تاہم، البانیز نے اپنا موقف برقرار رکھا کہ جمع کی گئی شہادتیں سنگین بین الاقوامی جرائم کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کارروائی میں ناکامی کے وسیع تر عالمی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ”جس طرح سے دنیا اپنے ردِعمل کا اظہار کرے گی، وہ ہماری اجتماعی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کا امتحان ہوگا۔“

البانیزی نے مزید کہا کہ فلسطین میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنا دیگر خطوں کو متاثر کرنے والی مثال قائم کر سکتا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اسے روکا نہ گیا تو ایسے رجحانات ”رکیں گے نہیں۔“